2026ء ورلڈ کپ نے بہت ساری تاریخیں رقم کی ہیں۔ اُن تاریخوں میں امریکا کا ایران کے ساتھ برتاؤ قابل دید رہا ہے۔ خصوصی طور پر ایران کا مصر کے ساتھ جون کے آخری جمعہ کا میچ تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ جب ایران نے مصر کے خلاف ایک گول کر دیا تھا۔ اُس کا گول اسکور بورڈ پر پانچ منٹ تک دمکتا رہا کیونکہ ریفری نے اِسے گول قرار دیا تھا۔ لیکن ویڈیو اسسنٹ ریفری کے فیصلے کا انتظار ہوتا رہا جنہیں یہ ہدایت دی گئی تھی کہ ایران میچ ہار جائیگا اور فیلڈ میں ایسا کوئی تنازع ظہور پذیر نہ ہو جس سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے طبع نازپر گراں گذرے ۔ لیکن یہاں تو کایا کا کایا پلٹ گیا۔ مصر کو شکست ہوگئی اور ایران ایک گول سے جیت رہا تھا۔ وائٹ ہاؤس میں بھونچال آسکتا ہے۔ صدر ٹرمپ ناشتے کے ٹیبل پر پلیٹوں پر پلیٹیں توڑ سکتے ہیں ۔ ابھی گذشتہ ہفتے ہی اُنہوں نے اپنے ایک ملازم خاص کو جوتے مار کر ملازمت سے برخواست کردیا تھا ، کیونکہ وہ اُن کی سابقہ محبوبہ کی گاڑی کا شیشہ توڑنے میں کامیاب نہ ہوسکا تھا۔ اِس لئے یہ پیش رفت اُن کے حکم کی صریحا”خلاف ورزی تھی۔ وائٹ ہاؤس کے چیف آف اسٹاف فورا” اپنی جان بچانے کیلئے یہ حکم صادر کردیا کہ گول کو نو گول کردو ۔ یہ ہمارا فیصلہ ہے۔ امریکی حکومت اپنے دشمن کو فاتح اور دوست کو شکست خوردہ قرار نہیں دے سکتی ہے۔ یہ صدیوں صدیوںکے گورے نظام حکومت کی نافرمانی کی ایک مثال بن سکتی تھی۔
ایران ٹورنامنٹ کی تاریخ میں واحد اور پہلا ملک تھاجس کی جنگ میزبان ملک سے جاری تھی۔ اِس کی ٹیم کے معطلی کی بنیاد ایک ایسا میچ تھا جسے اِس نے کھیلا ہی نہیں تھا۔الزام تراشی، شکوک و شبہات ، احتجاج اِس کے ورلڈ کپ کے سفر کی داستان تھی۔سب سے اول تو سوال یہ ابھر رہا تھا کہ آیا ایران ورلڈ کپ میں شرکت کرے گا یا نہیں؟ کیونکہ امریکا اور اسرائیل اِس سال کی فروری میں ایران پر حملہ آور ہوگئے تھے۔اِس ضمن میں دونوں ممالک سے متضاد اطلاعات فراہم کی جارہی تھیں۔ ایرانی ٹیم ہفتوں
ترکی میں مقیم رہی کیونکہ جنگ شروع ہونے کے باعث ایران کی اندرون ملک کی ٹیم کو معطل کردیا گیا تھا۔ سوال یہ بھی فٹ بال کے فینز کو مضمحل کر رہے تھے کہ آیا ایران کی ٹیم کو امریکا کے سفر کرنے کی اجازت دی جائیگی یا نہیںجہاں اِسے تین فرسٹ راؤنڈ گیمز کھیلنے تھے، اور جہاں اُسے بیس کیمپ بھی قائم کرنا تھا۔
مزید برآں ٹیم کے ساتھ ٹورنامنٹ میں ناروا سلوک بھی ایک ایسے ناقابل برداشت ماحول کو جنم دیا ہوا تھاجس کا شاذو نادر ہی کسی ورلڈ کپ میں دیکھنے میں آیا ہو۔ لاس اینجلز میں کھیلے جانے والے دو گیمزجس میں کثیر تعداد میں ایرانییوں نے شرکت کی تھی ایسی فضا میں کھیلے گئے تھے جیسے یہ تہران میں ہورہے ہوں۔ یہ اور بات ہے ایران کے قومی ترانے کے گانے کے وقت زبردست ہلڑ بازی دیکھنے میں آئی تھی۔بیشتر فینز ایسی جرسی پہنے ہوے تھے جو 1979 ء سے قبل ایران میں استعمال ہوتی تھیں۔ لیکن ایرانی کھلاڑیوں کا انتہائی گرمجوشی کے ساتھ استقبال کیا گیا تھا۔ویسے ایرانی کھلاڑیوں کو اور بھی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا جب امریکی حکومت نے اُن کے امریکا کے قیام پر پابندیاں عائد کردیں۔ بادل نخواستہ ایرانی ٹیم نے اپنا بیس کیمپ تیخواناجو میکسیکو اور امریکا کی سرحد کے قریب ہے وہاں قائم کردیا۔ لیکن ایرانی حکام اور اُس کے سپورٹ اسٹاف امریکی ویزا حاصل کرنے میں ناکامیاب رہے۔
اِس کے برمخالف ایرانی ٹیم کو ٹ تیخوانا میں بڑی آؤ بھگت ہوئی۔ وہاں کے تمام سرکردہ رہنما اُن سے ملنے کیلئے آئے اور اُن کی حوصلہ افزائی کی۔ میکسیکو کا مشہور بینڈ روزانہ اُن کے اعزاز میں بینڈ بجانے کیلئے تشریف لاتا تھا۔ صدر میکسیکو نے ایک خصوصی بیان میں اُن کی تعریفیں کیں۔ اُن کے بیس کے سامنے میکسیکن شہریوں کا جم غفیر جمع رہتا تھا۔ایرانی فٹ بال فیڈریشن نے میکسیکو سے واپسی کے وقت اپنے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوے کہا کہ ” آپ لوگوں نے ہماری انتہائی فراخدلانہ اور خوش اخلاقی کے ساتھ میزبانی کی اور ہمیں یہ سوچنے پر مجبورکردیا جیسے ہم اپنے گھر میں ہوں۔ہملوگ ہمیشہ میکسیکو کے لوگوںکی خوش اخلاقی اُن کی عظیم رواداری اور وہاں کی حکومت کی مہمان نوازی، سخاوت مندی اورعزت افزائی کے شکر گذار رہینگے۔











