بیسویں صدی کے اواخر میں مشرقِ وسطیٰ کے افق پر ابھرنے والے ایک عظیم سیاسی و مذہبی نظام کے سب سے مضبوط ستون، آیت اللہ علی خامنہ ای کا سفرِ حیات اب تاریخ کے پنوں میں محفوظ ہو چکا ہے۔ تین دہائیوں سے زائد عرصے تک ایران کی تقدیر کا فیصلہ کرنے والے اس مدبر رہنما کی رحلت محض ایک فرد کا دنیا سے رخصت ہونا نہیں، بلکہ ایک پورے عہد کا خاتمہ ہے۔ تہران کی سڑکوں پر امڈ آنے والا سوگواروں کا یہ سمندر، جو اپنے قائد کی آخری جھلک دیکھنے کے لیے بے تاب ہے، اس گہرے جذباتی اور نظریاتی رشتے کا عکاس ہے جو ایرانی عوام کو اپنے رہبرِ اعلیٰ سے جوڑے ہوئے تھا۔ یہ الوداعی مناظر بتاتے ہیں کہ داخلی اور خارجی محاذوں پر شدید ترین اقتصادی پابندیوں اور تزویراتی دباؤ کے باوجود، ایرانی مقتدرہ اپنے حامیوں کو ایک مرکز پر جمع رکھنے میں کس حد تک کامیاب رہی ہے۔
جولائی 2026ء کا یہ پہلا ہفتہ ایران کی جدید تاریخ کا شاید سب سے زیادہ سنگین اور حساس ترین وقت ہے۔ دارالحکومت کے مصلائے امام خمینی میں جب رہبرِ اعلیٰ کا جسدِ خاکی لایا گیا، تو وہاں موجود لاکھوں آنکھوں سے بہتے آنسوؤں نے ایک عجیب منظر تخلیق کیا۔ یہ ماتم صرف ایک رہنما کے جانے کا نہیں تھا، بلکہ یہ اس نظریاتی بقا کی جنگ کا بھی اظہار تھا جس کی قیادت انہوں نے طویل عرصے تک کی۔ دنیا بھر سے آئے ہوئے اعلٰی سطحی وفود، وزرائے اعظم اور پارلیمانی نمائندوں کی موجودگی اس بات کی گواہی دے رہی تھی کہ ایران نے بین الاقوامی تنہائی کی تمام تر کوششوں کو ناکام بناتے ہوئے خطے میں اپنے اثر و رسوخ کو کس حد تک مضبوط کر رکھا ہے۔ جنازے کے اس پورے عمل کو جس طرح ایک علامتی روٹ کے تحت ترتیب دیا گیا، وہ ایران کی مذہبی اور سیاسی جڑوں کو مزید گہرا کرنے کی ایک سوچی سمجھی کوشش نظر آتی ہے۔
تہران کے بعد اس جسدِ خاکی کو قم کی علمی فضاؤں اور پھر پڑوسی ملک عراق کے مقدس شہروں نجف اور کربلا لے جانے کا فیصلہ محض روایتی نہیں، بلکہ اس تزویراتی اور روحانی گٹھ جوڑ کا مظہر ہے جو تہران اور بغداد کے درمیان قائم ہو چکا ہے۔ ان تمام مقامات سے گزرتے ہوئے یہ سفر آخرکار مشرقِ وسطیٰ کے سب سے بڑے روحانی مرکز، مشہد میں امام علی رضا کے روضہ مبارک کے احاطے میں اپنے اختتام کو پہنچے گا۔ یہ پورا سلسلہ اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ ایرانی قیادت اس المیے کو بھی اپنے قومی اتحاد اور علاقائی طاقت کے اظہار کے لیے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ تاہم، اس پورے منظر نامے کے پیچھے ایک گہری تشویش اور خاموشی بھی چھپی ہوئی ہے۔
ایک صحافتی اور تجزیاتی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو اصل چیلنج اب شروع ہوتا ہے۔ آیت اللہ علی خامنہ ای کی رحلت کے بعد اب سب کی نظریں اس قیادت پر لگی ہیں جو اس وسیع و عریض اور پیچیدہ نظام کو سنبھالے گی۔ رہبرِ ماہرین کی مجلس کے سامنے اب یہ بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ نہ صرف قدامت پسند حلقوں کو مطمئن رکھ سکے بلکہ نوجوان نسل کی ابھرتی ہوئی امنگوں اور معاشی مشکلات سے نبردآزما عوام کو بھی ساتھ لے کر چل سکے۔ مغربی دنیا اور علاقائی حریف اس وقت ایران کے اندرونی حالات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ قیادت کی اس تبدیلی کے اثرات صرف تہران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ لبنان، شام، یمن اور عراق تک محسوس کیے جائیں گے۔ یہ جنازہ اور اس سے وابستہ واقعات جہاں ایک عہد کا شاندار الوداع ہیں، وہاں یہ ایران کے مستقبل کے لیے ایک نئے اور کٹھن امتحان کا آغاز بھی ہیں جس کا سامنا اس قوم کو بہت جلد کرنا ہو گا۔














