میم کوائن میں سرمایہ کاری کرنیوالے دس لاکھ افراد کو 4ارب ڈالر کا نقصان

0
4

واشنگٹن (پاکستان نیوز)صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے میم کوائن میں سرمایہ کاری کرنے والے تقریباً دس لاکھ افراد کو پونے چار ارب ڈالر سے زائد کا بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ کرپٹو کرنسی کے تجزیاتی ادارے نینسن کی حالیہ رپورٹ کے مطابق جون کے آخر تک اس ڈیجیٹل کرنسی کے باعث نو لاکھ اٹھاسی ہزار نو سو پانچ خریداروں کو مجموعی طور پر تین ارب اکیاسی کروڑ ڈالر کا نقصان ہوا۔ نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے اس منصوبے سے خود بھاری منافع کمایا کیونکہ جب بھی اس ٹوکن کی تجارت ہوتی تھی تو انہیں مستقل آمدنی حاصل ہوتی تھی خواہ اس کی قیمت اوپر جائے یا نیچے گر جائے۔ یہ ڈیجیٹل کرنسی ڈونلڈ ٹرمپ کی جنوری 2025 میں دوبارہ صدارت سنبھالنے سے محض تین دن قبل متعارف کروائی گئی تھی۔ نینسن کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ اس کوائن کی مالیت اپنی بلند ترین سطح 75.35 ڈالر سے 97 فیصد تک گر کر محض 1.76 ڈالر پر آ گئی ہے۔ ایک متاثرہ کرپٹو تاجر نکولس پنٹو نے انکشاف کیا کہ انہوں نے خود اس کوائن میں تقریباً پانچ لاکھ ڈالر گنوائے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ نے پبلک میں اپنے قابل اعتماد تشخص اور صدارتی طاقت کا فائدہ اٹھا کر یہ کرنسی لانچ کی جو ایک طرح کا قانونی دھوکہ معلوم ہوتی ہے۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس واپسی کے بعد سے اپنے مختلف کاروباری ذرائع سے دو ارب بیس کروڑ ڈالر کا منافع کمایا ہے جبکہ دوسری طرف عام سرمایہ کاروں کی زندگی بھر کی جمع پونجی ڈوب گئی۔ دوسری جانب اس میم کوائن کے نمائندوں کی طرف سے اس معاملے پر تاحال کوئی باقاعدہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here