جاسوسی کے متنازع قانون فیسا کی مدت میں 30 اپریل تک توسیع

0
3

نیویارک (پاکستان نیوز)ایوان نمائندگان نے غیر ملکی انٹیلی جنس نگرانی کے قانون فیسا کی مدت میں مختصر توسیع کی منظوری دے دی ہے تاکہ ملک کے جاسوسی پروگرام کو جاری رکھا جا سکے۔ واشنگٹن سے موصول ہونیوالی اطلاعات کے مطابق ایوان کے اراکین نے 17 اپریل کی علی الصبح ایک اہم اجلاس کے دوران سیکشن 702 کے تحت حاصل ان خصوصی اختیارات کو 30 اپریل تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس سے قبل ریپبلکن اراکین کی جانب سے اس قانون کو 5 سال کے لیے توسیع دینے کی کوشش کی گئی تھی جو کہ ناکام رہی۔ سیکشن 702 ایک ایسا کلیدی قانون ہے جو امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کو دنیا بھر میں موجود غیر ملکیوں کی ڈیجیٹل سرگرمیوں اور مواصلات کی نگرانی کا اختیار دیتا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 14 اپریل کو اپنی جماعت کے اراکین پر زور دیا کہ وہ اس قانون کی مدت میں اضافے کے لیے متحد ہو جائیں کیونکہ یہ امریکی فوج اور قومی سلامتی کے لیے انتہائی ناگزیر ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نائن الیون کے حملوں کے بعد نافذ ہونے والے یہ اختیارات دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں اور امریکی مفادات کا تحفظ یقینی بناتے ہیں۔ دوسری جانب اس قانون کو شدید عوامی اور سیاسی تنقید کا بھی سامنا ہے۔ ناقدین کا موقف ہے کہ یہ قانون امریکی شہریوں کی نجی زندگی اور آئینی حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے کیونکہ نگرانی کے عمل میں اکثر مقامی لوگوں کا ڈیٹا بھی بلا اجازت حاصل کر لیا جاتا ہے۔ ایوان سے منظوری کے بعد اب یہ بل سینیٹ کو بھیج دیا گیا ہے جہاں 20 اپریل کی ڈیڈ لائن سے قبل اس پر فیصلہ ہونا ضروری ہے۔ اگر سینیٹ نے اسے بروقت منظور نہ کیا تو امریکی ایجنسیوں کے لیے غیر ملکی ڈیٹا تک رسائی کا یہ قانونی راستہ بند ہو جائے گا۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here