شیلا چیرفیلس ،میک کارمک پر بدعنوانی کے الزامات ،عہدے سے مستعفی

0
3

فلوریڈا (پاکستان نیوز)50 لاکھ ڈالر کے وفاقی فنڈز میں خورد برد کا الزامڈیڑھ سال سے زائد عرصے تک وفاقی تحقیقات اور اخلاقیات کمیٹی کی گرفت میں رہنے کے بعد فلوریڈا سے تعلق رکھنے والی امریکی ایوان نمائندگان کی رکن شیلا چیرفیلس میک کارمک نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے جس نے واشنگٹن کے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ فلوریڈا کے بیسویں انتخابی حلقے کی نمائندگی کرنے والی شیلا چیرفیلس میک کارمک نے ایک ایسے وقت میں اپنا استعفیٰ پیش کیا جب ایوان کی اخلاقیات کمیٹی ان کے خلاف دو سالہ طویل تحقیقات مکمل کرنے کے بعد اپنی حتمی رپورٹ پیش کرنے والی تھی۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے 2022 کے انتخابات کے دوران مہم کے لیے ان فنڈز کا غیر قانونی استعمال کیا جو دراصل وفاقی ہنگامی امدادی ادارے کی جانب سے عوامی فلاح کے لیے مختص کیے گئے تھے۔کمیٹی کی تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ انہوں نے ایوان کے نظم و ضبط اور مالیاتی شفافیت کے 25 مختلف ضوابط کی خلاف ورزی کی ہے۔ استغاثہ کے مطابق تقریبا 50 لاکھ ڈالر کی رقم جو کہ کورونا وائرس کی وبا کے دوران طبی امداد کے طور پر ان کے خاندان سے وابستہ ایک کمپنی کو موصول ہوئی تھی اسے مہم کے اخراجات اور ذاتی مفادات کے لیے موڑ دیا گیا۔ اگرچہ انہوں نے اپنے الوداعی بیان میں ان تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اسے سیاسی بنیادوں پر نشانہ بنانے کی کوشش قرار دیا ہے تاہم تادیبی کارروائی اور ایوان سے ممکنہ بے دخلی کے یقینی خطرے نے انہیں یہ قدم اٹھانے پر مجبور کر دیا۔ ان کے جانے سے ایوان میں ڈیموکریٹک پارٹی کی عددی قوت مزید کم ہو گئی ہے اور اب ریاست کے قانون کے مطابق اس خالی نشست کو پر کرنے کے لیے خصوصی انتخابات کا انعقاد کیا جائے گا۔ یہ واقعہ امریکی سیاست میں مالیاتی بدعنوانی اور عوامی عہدوں کے غلط استعمال کے خلاف سخت احتسابی عمل کی ایک اہم کڑی تصور کیا جا رہا ہے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here