گورنر کیتھی ہوشول کا بجٹ مذاکرات میں ڈیڈ لاک کا اعتراف

0
10

نیویارک (پاکستان نیوز)گورنر کیتھی ہوچول نے ریاست کے 2019 کے تاریخی ماحولیاتی قانون میں تبدیلیوں کے حوالے سے جاری تعطل کا ذمہ دار ان ماحولیاتی کارکنوں کو قرار دیا ہے جنہوں نے قانون کی خلاف ورزی پر حکومت کے خلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔ گورنر کا موقف ہے کہ کارکنوں کی جانب سے دائر مقدمے نے انہیں قانون میں ترمیم کرنے پر مجبور کیا ہے کیونکہ موجودہ حالات میں پرانے اہداف کو پورا کرنا ممکن نہیں رہا۔ریاستی بجٹ کے مذاکرات کئی ہفتوں سے التوا کا شکار ہیں جن میں کار انشورنس کی اصلاحات اور ماحولیاتی تحفظ کے قانون میں نرمی جیسے حساس موضوعات شامل ہیں۔ گورنر ہوچول کا کہنا ہے کہ وہ یہ قدم خوشی سے نہیں اٹھا رہیں بلکہ وہ ان حالات کی وجہ سے مجبور ہیں جو عدالتی فیصلے کے بعد پیدا ہوئے ہیں۔ یاد رہے کہ مذکورہ قانون کے تحت ریاست کو 2024 تک کاربن کے اخراج کو کنٹرول کرنے کے لیے قواعد و ضوابط جاری کرنا تھے، لیکن مقررہ وقت گزرنے کے باوجود جب حکومت نے کوئی عملی اقدام نہیں کیا تو کارکنوں نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ گزشتہ سال ایک جج نے حکومت کو فروری تک یہ ضوابط جاری کرنے کا حکم دیا تھا جس کے خلاف انتظامیہ نے اپیل دائر کر رکھی ہے۔ گورنر کا دعویٰ ہے کہ عالمی وبا، سپلائی چین میں رکاوٹیں اور بڑھتی ہوئی مہنگائی وہ عوامل ہیں جن کی وجہ سے اصل ٹائم لائن پر عمل درآمد ناممکن ہو گیا ہے۔ ان کے بقول وہ توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے عوام کو بچانے کے لیے محتاط رویہ اپنا رہی ہیں۔ دوسری جانب ماحولیاتی تنظیموں کا کہنا ہے کہ گورنر اپنی ناکامی کا ملبہ دوسروں پر ڈالنے کی کوشش کر رہی ہیں اور انہیں قانون بدلنے کے بجائے عدالتی احکامات پر عمل کرنا چاہیے۔ فی الحال بجٹ پر بات چیت جمود کا شکار ہے اور قانون سازوں میں اس حوالے سے شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here