ممبئی (پاکستان نیوز) موسیقی کی دنیا کا ایک اور درخشاں ستارہ ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا۔ برصغیر کی لیجنڈری گلوکارہ آشا بھوسلے طویل علالت کے بعد 92 برس کی عمر میں ممبئی کے مقامی اسپتال میں دم توڑ گئیں۔ ان کے انتقال کی خبر نے دنیا بھر میں موجود کروڑوں مداحوں کو غم زدہ کر دیا ہے اور اسے موسیقی کے ایک سنہری دور کا اختتام قرار دیا جا رہا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق آشا بھوسلے کو 11 اپریل کی شام ممبئی کے معروف بریچ کینڈی اسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں انہیں سینے کے انفیکشن اور شدید جسمانی نقاہت کے باعث انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں رکھا گیا تھا۔ ڈاکٹر پراتیت سمدانی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ گلوکارہ طویل عرصے سے مختلف طبی مسائل کا شکار تھیں اور ان کی موت کی اصل وجہ ملٹی آرگن فیلئر یعنی جسم کے مختلف اعضا کا کام چھوڑ جانا بنی۔ ان کے معالجین کا کہنا ہے کہ عمر کے اس حصے میں انفیکشن نے ان کے مدافعتی نظام کو بری طرح متاثر کیا تھا۔ آشا بھوسلے کے بیٹے آنند بھوسلے نے افسوسناک خبر کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی والدہ نے اسپتال میں آخری سانسیں لیں۔ اس سے قبل ان کی پوتی زنائی بھوسلے نے بھی سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر مداحوں کو اپنی دادی کی بگڑتی ہوئی صحت کے بارے میں آگاہ کیا تھا۔ حیران کن طور پر اپنی وفات سے چند روز قبل ہی آشا بھوسلے دنیائے کرکٹ کے عظیم کھلاڑی سچن ٹنڈولکر کے بیٹے ارجن ٹنڈولکر کی شادی کی تقریب میں بھی نظر آئی تھیں۔ اس تقریب میں ان کی شرکت کو مداحوں نے بہت سراہا تھا کیونکہ وہ نقاہت کے باوجود خوشگوار موڈ میں دکھائی دے رہی تھیں۔ 8 دہائیوں پر محیط اپنے طویل فنی سفر میں آشا بھوسلے نے ہزاروں گیت گائے اور کئی عالمی اعزازات اپنے نام کیے۔ ان کے انتقال پر فنون لطیفہ سے وابستہ شخصیات نے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ آشا کی آواز ہمیشہ مداحوں کے دلوں میں زندہ رہے گی۔ ان کی آخری رسومات میں فلمی دنیا اور سیاست کے اہم ناموں نے شرکت کر کے انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔












