لندن (پاکستان نیوز)یورپی ہوائی اڈوں کی نمائندہ تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری جہازوں کی آمد و رفت فوری طور پر بحال نہ ہوئی تو اگلے 21 دنوں کے اندر پورے یورپ میں جہازوں کے ایندھن کی شدید قلت پیدا ہو جائے گی۔ اس صورتحال کے باعث گرمیوں کی چھٹیوں کے دوران لاکھوں مسافروں کی پروازیں منسوخ ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ ایئرپورٹس کونسل انٹرنیشنل نے یورپی یونین کے اعلیٰ حکام کو لکھے گئے خط میں واضح کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ سے ایندھن کی فراہمی میں تعطل کی وجہ سے ذخائر تیزی سے ختم ہو رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ حالیہ جنگی صورتحال اور آبنائے ہرمز کی بندش نے یورپ کے لیے ایندھن کی سپلائی لائن کاٹ دی ہے۔ یورپ اپنی ضرورت کا 40 فیصد سے زائد ایندھن اسی راستے سے حاصل کرتا ہے لیکن گزشتہ چند ہفتوں سے کوئی بھی نیا بحری جہاز اس اہم تجارتی راستے سے نہیں گزر سکا ہے۔ اس بحران کے نتیجے میں عالمی منڈی میں جہازوں کے ایندھن کی قیمتیں گزشتہ سال کے مقابلے میں دگنی سے بھی زیادہ ہو کر 1650 ڈالر فی ٹن تک پہنچ گئی ہیں جس کا براہ راست اثر فضائی ٹکٹوں کی قیمتوں پر پڑے گا۔ اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑے ہوائی اڈوں کے مقابلے میں چھوٹے ایئرپورٹس زیادہ خطرے میں ہیں کیونکہ ان کے پاس ایندھن کا ذخیرہ صرف 4 سے 5 ہفتوں کے لیے ہوتا ہے۔ اگرچہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششیں جاری ہیں لیکن ماہرین کا خیال ہے کہ سپلائی کی مکمل بحالی میں کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔ اس صورتحال نے برطانیہ اور یورپی یونین کے ممالک میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے کیونکہ ایندھن کی کمی نہ صرف سیاحت کو متاثر کرے گی بلکہ معیشت کو بھی بڑے نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ آئرلینڈ جیسے ممالک میں ایندھن کی قلت کے خلاف احتجاج کے بعد فوج کو بھی الرٹ کر دیا گیا ہے تاکہ اہم راستوں اور ڈپوؤں کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔










