ممبئی (پاکستان نیوز)دوسری عالمی جنگ کے بعد بھارت کو اپنی تاریخ کے شدید ترین ایندھن اور کھاد کے بحران کا سامنا ہے جس کے باعث ملک بھر میں زراعتی شعبہ مفلوج ہو کر رہ گیا ہے اور کروڑوں کسانوں کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے۔ بھارت کے مختلف حصوں سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ڈیزل اور پیٹرول کی قلت نے جہاں آمد و رفت کو شدید متاثر کیا ہے وہیں کھیتوں میں ٹریکٹر اور ٹیوب ویل بھی خاموش ہو گئے ہیں۔ کاشتکاروں کا کہنا ہے کہ فصلوں کی کٹائی اور نئی بوائی کے اس اہم سیزن میں ایندھن کی عدم دستیابی ان کے لیے معاشی موت کے برابر ہے۔ صورتحال اس وقت مزید سنگین ہو گئی جب عالمی منڈی میں قیمتوں کے اتار چڑھاؤ اور رسد میں رکاوٹ کے باعث کھاد کی فراہمی بھی معطل ہو گئی۔ کسانوں کی بڑی تعداد کھاد کے حصول کے لیے مراکز کے باہر طویل قطاروں میں لگی نظر آتی ہے جہاں کئی مقامات پر پولیس اور عوام کے درمیان تصادم کی خبریں بھی ملی ہیں۔ ماہرینِ معیشت نے انتباہ جاری کیا ہے کہ اگر یہ بحران جلد حل نہ ہوا تو بھارت میں غذائی تحفظ کا سنگین مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے۔ کھاد کی کمی سے فصلوں کی پیداوار میں 30 سے 40 فیصد تک کمی کا خدشہ ہے جس کا براہِ راست اثر ملک میں اناج کے ذخائر اور قیمتوں پر پڑے گا۔ دیہی علاقوں میں بے چینی کی لہر دوڑ گئی ہے اور کئی ریاستوں میں کسان تنظیموں نے حکومت کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج شروع کر دیا ہے۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ ہنگامی بنیادوں پر ایندھن کے متبادل ذرائع اور کھاد کی درآمد کے لیے دیگر ممالک سے رابطے میں ہیں تاہم عالمی سپلائی چین میں پیدا ہونے والے مسائل اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی گرتی ہوئی قدر نے ان کوششوں کو مشکل بنا دیا ہے۔ دوسری جانب حزبِ اختلاف نے اسے حکومت کی ناکامی قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ کسانوں کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے ورنہ ملک میں قحط جیسی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔ فی الحال منڈیوں میں سبزیوں اور پھلوں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں اور عام آدمی کے لیے دو وقت کی روٹی کا حصول مشکل ہوتا جا رہا ہے۔









