نیویارک (پاکستان نیوز)ایران اور امریکہ کے درمیان مشرق وسطیٰ میں جاری حالیہ تنازع اب ایک ایسی صورتحال اختیار کر چکا ہے جہاں جدید ترین ٹیکنالوجی اور اربوں ڈالرز کے جنگی بجٹ کے حامل ممالک کو ایران کی غیر روایتی جنگی حکمت عملی کا سامنا ہے۔ بی بی سی کی ایک تفصیلی رپورٹ کے مطابق اس کشیدگی میں دونوں جانب سے ہونے والے اخراجات میں زمین آسمان کا فرق ہے جو عالمی طاقتوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔ ایران نے اپنے دفاع کے لیے مہنگے روایتی ہتھیاروں کے بجائے سستے ڈرونز اور مقامی اتحادیوں پر مشتمل ایک ایسا جال بن رکھا ہے جسے غیر روایتی جنگ کہا جاتا ہے۔ اس حکمت عملی کے تحت ایران کے چند ہزار ڈالرز مالیت کے ڈرونز کو فضا میں تباہ کرنے کے لیے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو لاکھوں ڈالرز مالیت کے جدید میزائل استعمال کرنے پڑتے ہیں جو معاشی اعتبار سے ایک انتہائی مہنگا سودا ثابت ہو رہا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جہاں ایک طرف امریکی بحریہ کے عظیم الشان طیارہ بردار جہاز اور جدید ترین جنگی طیارے خطے میں موجود ہیں وہیں ایران نے اپنی توجہ کم قیمت لیکن موثر ٹیکنالوجی پر مرکوز کر رکھی ہے۔ اس دفاعی نظام کی وجہ سے امریکہ کو اپنے دفاعی بجٹ کا ایک بڑا حصہ صرف ان سستے حملوں کو روکنے پر صرف کرنا پڑ رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ کشیدگی ایک باقاعدہ جنگ کی صورت اختیار کرتی ہے تو اس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی معیشت اور تیل کی قیمتوں پر بھی اس کے تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے۔ انسانی جانوں کے ضیاع کے حوالے سے بھی اعداد و شمار تشویشناک ہیں کیونکہ حالیہ حملوں میں نہ صرف فوجی اہلکار بلکہ بڑی تعداد میں عام شہری بھی متاثر ہوئے ہیں جن کے بارے میں عالمی انسانی حقوق کے اداروں نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر اس صورتحال کو عالمی معاہدوں کی روشنی میں دیکھا جا رہا ہے جہاں سویلین آبادی پر حملوں کو جنگی جرائم کے زمرے میں لایا جا سکتا ہے۔ دوسری جانب سیاسی بیان بازی نے بھی جلتی پر تیل کا کام کیا ہے جہاں امریکی قیادت کی جانب سے سخت گیر موقف اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر جاری ہونے والے بیانات نے سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچایا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ایران کا اصل مقصد براہ راست جنگ کے بجائے اپنے حریفوں کو ایک طویل اور تھکا دینے والی معاشی و نفسیاتی جنگ میں الجھائے رکھنا ہے جس میں وہ اب تک کافی حد تک کامیاب نظر آتا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق مستقبل میں اس تنازع کا حل صرف میزائلوں کی طاقت سے ممکن نہیں بلکہ اس کے لیے پیچیدہ علاقائی سیاست اور معاشی مفادات کو سمجھنا ضروری ہوگا۔









