لندن (پاکستان نیوز)ماہرین نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ نیٹو اتحاد کی بقا اور اس میں واشنگٹن کی مسلسل موجودگی خود امریکی مفادات کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہے کیونکہ اس عالمی اتحاد سے علیحدگی نہ صرف یورپ بلکہ خود امریکہ کی سلامتی اور معاشی استحکام کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتی ہے۔ عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے دفاعی چیلنجز اور بدلتی ہوئی صورتحال میں نیٹو کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ اتحاد محض ایک دفاعی معاہدہ نہیں ہے بلکہ یہ جمہوری اقدار اور مشترکہ سیکیورٹی کا ایک ایسا فولادی ڈھانچہ ہے جس نے گزشتہ کئی دہائیوں سے دنیا کو بڑی جنگوں سے محفوظ رکھا ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکہ اس اتحاد سے پیچھے ہٹتا ہے تو اس سے پیدا ہونے والا خلا نہ صرف دشمن قوتوں کو شہ دے گا بلکہ بین الاقوامی تجارت اور سمندری راستوں کی حفاظت پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے جن پر امریکی معیشت کا گہرا انحصار ہے۔ کیر اسٹارمر نے یہ موقف ایک ایسے وقت میں اپنایا ہے جب واشنگٹن کے سیاسی حلقوں میں نیٹو کے بجٹ اور رکن ممالک کے کردار پر بحث جاری ہے۔ برطانوی وزیر اعظم نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ نیٹو میں سرمایہ کاری دراصل ایک محفوظ مستقبل میں سرمایہ کاری ہے اور اس سے علیحدگی کا کوئی بھی فیصلہ خود امریکہ کی عالمی قیادت اور اثر و رسوخ کو کمزور کرنے کا باعث بنے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ برطانیہ اپنے تمام اتحادیوں کے ساتھ مل کر اس بات کو یقینی بنائے گا کہ یہ اتحاد جدید دور کے تقاضوں کے مطابق اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مزید بہتر بنائے۔ رپورٹ کے مطابق برطانوی حکومت کا یہ پیغام براہ راست امریکی پالیسی سازوں کے لیے ہے تاکہ انہیں باور کرایا جا سکے کہ عالمی امن کا راستہ تنہائی پسندی میں نہیں بلکہ مشترکہ دفاعی حکمت عملی میں پوشیدہ ہے۔ اسٹارمر نے واضح کیا کہ روس اور دیگر ابھرتے ہوئے خطرات کے سامنے نیٹو کا اتحاد ہی وہ واحد رکاوٹ ہے جو دنیا کو بڑی جنگ کے دہانے پر جانے سے روک سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 1949 سے قائم یہ اتحاد آج بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا اپنی تشکیل کے وقت تھا اور اس کی مضبوطی میں ہی عالمی معیشت اور انسانی حقوق کا تحفظ مضمر ہے۔








