لندن (پاکستان نیوز)برطانوی وزیراعظم کیئر سٹارمر نے اعلان کیا ہے کہ برطانیہ رواں ہفتے تقریباً 35 ممالک کے ایک اہم اجلاس کی میزبانی کرے گا جس کا مقصد تزویراتی اہمیت کی حامل آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے ممکنہ طریقوں پر غور کرنا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث یہ عالمی تجارتی راستہ شدید متاثر ہوا ہے اور اس اجلاس کی صدارت برطانوی وزیر خارجہ یوویٹ کوپر کریں گی۔ ڈاؤننگ اسٹریٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعظم سٹارمر نے اجلاس کی حتمی تاریخ بتائے بغیر واضح کیا کہ اس میں ایسے تمام سفارتی اور سیاسی اقدامات کا جائزہ لیا جائے گا جن کے ذریعے جہاز رانی کی آزادی کو بحال کیا جا سکے۔ وزیراعظم کے مطابق اس اہم مشاورتی عمل کا مقصد وہاں پھنسے ہوئے بحری جہازوں اور ان کے عملے کی حفاظت کو یقینی بنانا اور دنیا بھر میں ضروری اشیائ کی ترسیل کو دوبارہ شروع کرنا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ سفارتی کوششوں کے بعد فوجی ماہرین کو بھی یکجا کیا جائے گا تاکہ وہ لڑائی کے خاتمے کے بعد آبنائے ہرمز کو محفوظ اور قابل رسائی بنانے کے لیے تکنیکی اقدامات تجویز کر سکیں۔ اس بات چیت میں وہ ممالک بھی پیش پیش ہوں گے جنہوں نے حال ہی میں ایک مشترکہ بیان پر دستخط کیے ہیں جس میں آبنائے ہرمز سے محفوظ گزرگاہ کی فراہمی کے لیے ہر ممکن کوششیں کرنے کا عہد کیا گیا ہے۔ ان ممالک میں برطانیہ کے علاوہ فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان اور نیدرلینڈز شامل ہیں۔ یاد رہے کہ رواں سال 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی کارروائیوں کے ردعمل میں ایران نے اس اہم آبی گزرگاہ کو تقریباً بند کر دیا تھا جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر تیل اور گیس کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ عام حالات میں دنیا بھر میں استعمال ہونے والے تیل اور مائع قدرتی گیس کا تقریباً پانچواں حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔ وزیراعظم سٹارمر نے عوامی سطح پر اس حقیقت کا اعتراف کیا کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانا ایک مشکل اور پیچیدہ مرحلہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اسی دوران برطانوی وزیراعظم نے دفاعی اتحاد نیٹو کی اہمیت پر بھی زور دیا اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اتحاد پر کی جانے والی حالیہ تنقید کو مسترد کر دیا۔ کیئر سٹارمر نے کہا کہ نیٹو دنیا کا سب سے طاقتور اور مؤثر فوجی اتحاد ہے جس نے کئی دہائیوں تک رکن ممالک کا دفاع یقینی بنایا ہے اور برطانیہ اس اتحاد کے ساتھ اپنے تعاون پر مکمل طور پر قائم رہے گا۔ واضح رہے کہ امریکی صدر ٹرمپ نے ایک حالیہ انٹرویو میں نیٹو کو ایک کمزور اتحاد قرار دیا تھا جس کے جواب میں برطانوی قیادت نے اپنے پختہ عزم کا اظہار کیا ہے۔












