نیویارک (پاکستان نیوز)ایوان نمائندگان کی ممتاز رکن الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز نے ڈیموکریٹک سوشلسٹ آف امریکہ کے ایک حالیہ اجلاس کے دوران باضابطہ طور پر یہ عہد کیا ہے کہ وہ مستقبل میں اسرائیل کے لیے کسی بھی قسم کی فوجی یا دفاعی امداد کے حق میں ووٹ نہیں دیں گی۔ یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ان کی اپنی سیاسی جماعت کے اندر بائیں بازو کے نظریات رکھنے والے ارکان ان پر اسرائیل کے دفاعی نظام بشمول آئرن ڈوم کے لیے نرم گوشہ رکھنے کا الزام عائد کر رہے تھے۔ ایک نجی ورچوئل فورم کے دوران سامنے آنے والی تفصیلات کے مطابق الیگزینڈریا نے واضح کیا کہ انہوں نے پہلے بھی کبھی اسرائیل کے لیے براہ راست فنڈز کی منظوری کی حمایت نہیں کی اور اب وہ اس موقف پر سختی سے قائم رہیں گی کہ اسرائیلی حکومت کو اپنی عسکری ضروریات اور اسلحے کی خریداری کے لیے اپنے وسائل خود پیدا کرنے چاہئیں۔ اس نئی سیاسی حکمت عملی کو 2028 کے صدارتی انتخابات کی تیاریوں کے سلسلے میں ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ الیگزینڈریا اوکاسیو کورٹیز کو امریکی سیاست میں بائیں بازو کے محاذ کی ایک طاقتور علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ ماضی میں انہوں نے اسرائیل کو صرف جارحانہ ہتھیاروں کی فراہمی کی مخالفت کی تھی جبکہ دفاعی نوعیت کے میزائل سسٹم کے لیے فنڈز کی فراہمی پر خاموشی یا درمیانہ راستہ اختیار کیا تھا جس کی وجہ سے سوشلسٹ حلقوں میں ان کے خلاف ایک مہم چل رہی تھی۔ اب انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اگر کانگریس میں اسرائیل کو کسی بھی قسم کا فوجی سرمایہ فراہم کرنے کی تحریک پیش کی گئی تو وہ اس کے خلاف ووٹ دیں گی۔ اس کے علاوہ انہوں نے سام دشمنی کی اس بین الاقوامی تعریف کو بھی مسترد کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے جس کے تحت اسرائیل کی ریاستی پالیسیوں پر تنقید کو نفرت انگیزی کے زمرے میں لانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ان کا یہ بدلا ہوا رخ سیاسی اتحاد کو برقرار رکھنے اور اپنے حامیوں کے تحفظات دور کرنے کی ایک بڑی کوشش سمجھا جا رہا ہے۔













