
نیویارک(پاکستان نیوز) نیویارک کی اٹارنی جنرل لیٹیشیا جیمز نے امریکی محکمہ انصاف کی جانب سے نیویارک شہر کے ‘سینکچری سٹی’ قوانین کے خلاف دائر مقدمے میں شہر کے دفاع کے لیے ایک قانونی بریف جمع کرائی ہے، جس میں انہوں نے دلیل دی ہے کہ یہ قوانین عوامی تحفظ کو یقینی بنانے اور تارکین وطن برادریوں کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ یہ پالیسیاں مقامی قانون نافذ کرنے والے اداروں کو وفاقی سول امیگریشن کے معاملات سے دور رکھ کر تارکین وطن میں اعتماد پیدا کرتی ہیں تاکہ وہ بغیر کسی خوف کے جرائم کی اطلاع دے سکیں، بطور گواہ پیش ہو سکیں اور ضروری سرکاری خدمات حاصل کر سکیں، جس سے مجموعی طور پر پورا شہر محفوظ رہتا ہے۔ اٹارنی جنرل نے واضح کیا کہ یہ قوانین صرف سول امیگریشن تک محدود ہیں اور مجرمانہ معاملات میں وفاقی حکام کے ساتھ تعاون میں رکاوٹ نہیں بنتے، بلکہ ان کا مقصد مقامی وسائل کو گن وائلنس اور دیگر سنگین جرائم کے خاتمے پر مرکوز کرنا ہے۔ انہوں نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ محکمہ انصاف کے اس مقدمے کو خارج کیا جائے کیونکہ یہ قوانین ریاست اور وفاق کے دیگر ضوابط کے عین مطابق ہیں اور نیویارک کی ان روایات کا حصہ ہیں جو دہائیوں سے ریپبلکن اور ڈیموکریٹک دونوں حکومتوں کے دور میں برقرار رہی ہیں۔











