سٹی ممبر وکی پالادینو کا ”عالمی جہاد” کے نام پر مسلمانوں کیخلاف نفرت انگیز بیان

0
27

نیویارک (پاکستان نیوز) نیویارک سٹی کونسل کی ریپبلکن رکن وکی پالادینو کو سڈنی میں ہنوکا کے دوران ہونیوالے حملے کے ردعمل میں مسلمانوں کی مغربی ممالک سے ‘بڑے پیمانے پر ملک بدری’ کا مطالبہ کرنے پر شدید عوامی اور سیاسی غصے کا سامنا ہے۔ پالادینو نے اپنے ایک حالیہ بیان میں انتہا پسندی کا مقابلہ کرنے کے لیے مسلم اکثریتی علاقوں میں کریک ڈاؤن اور جلاوطنی جیسے اقدامات کی حمایت کی، جس پر ظہران ممدانی سمیت دیگر کونسل اراکین نے اسے ‘بدترین اسلامو فوبیا’ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔ ممدانی کا کہنا ہے کہ نیویارک میں مقیم دس لاکھ مسلمان شہر کا اٹوٹ حصہ ہیں۔دریں اثناء بروکلین کے علاقے بورو پارک میں یہودی عبادتگاہ کے قریب واقع 40 سال پرانی ‘سیدر میتزہ بیکری’ میں بدھ کی صبح لگنے والی خوفناک آگ نے عمارت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ اس حادثے میں ایک فائر فائٹر اور تین شہری زخمی ہوئے، جبکہ عمارت کو خالی کروانے کے احکامات جاری کر دئیے گئے ہیں۔ مقامی یہودی برادری نے اس واقعے کو ایک بڑا نقصان قرار دیا ہے، کیونکہ یہ بیکری ہاتھ سے تیار کردہ روایتی میتزہ کے لیے مشہور تھی اور آنیوالے تہوار ‘پاس اوور’ کے لیے کئی ماہ پہلے ہی تیاری شروع کر دیتی تھی۔ اگرچہ باضابطہ طور پر ان دونوں واقعات کے درمیان کوئی براہ راست تعلق ثابت نہیں ہوا، لیکن نیویارک کی موجودہ کشیدہ فضا میں ان کا بیک وقت رونما ہونا شہر کے سماجی توازن پر گہرے اثرات مرتب کر رہا ہے۔ ایک طرف وکی پالادینو جیسے سیاسی نمائندوں کے اشتعال انگیز بیانات سے مسلم کمیونٹی کے خلاف نفرت اور عدم تحفظ کا احساس بڑھ رہا ہے، تو دوسری جانب یہودی برادری کے لیے ایک اہم مذہبی مرکز (میتزہ بیکری) کی تباہی نے خوف اور بے چینی کی لہر پیدا کر دی ہے۔ پالادینو کی جانب سے ‘مسلمانوں کی بے دخلی’ اور ‘مسلم علاقوں میں سرچ آپریشن’ کی بات ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایک یہودی عبادت گاہ کے قریب واقع بیکری آگ کی لپیٹ میں آئی۔ یہ صورتحال مختلف مذاہب کے درمیان شک و شبہات کی فضا کو جنم دے سکتی ہے۔ کونسل ممبر کا سخت گیر موقف اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ بیرونی واقعات (سڈنی حملہ) کو بنیاد بنا کر مقامی سطح پر مذہبی تفریق پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، جس سے اس طرح کے حادثات (بیکری میں آگ) کو بھی مذہبی رنگ دیے جانے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے ۔جہاں پالادینو ‘عالمی جہاد’ کو خطرہ قرار دے کر سخت حفاظتی اقدامات کا مطالبہ کر رہی ہیں، وہیں بروکلین جیسے گنجان آباد علاقوں میں آگ لگنے جیسے حادثات نے مقامی انتظامیہ کی توجہ مذہبی تنازعات کے بجائے عوامی حفاظت اور بنیادی ڈھانچے کی بحالی پر مرکوز کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here