خطہ جنگ کی لپیٹ میں، ہوش کی ضرورت!!!

0
11

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت کی خبر نے پورے خطے کو لرزا کر رکھ دیا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق انہیں ان کے دفتر میں اس وقت نشانہ بنایا گیا جب وہ ریاستی امور انجام دے رہے تھے۔ ایران میں سات روزہ تعطیل اور چالیس روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔ یہ محض ایک شخصیت کا قتل نہیں بلکہ ایک ریاستی علامت پر حملہ ہے، جس کے اثرات داخلی سیاست سے کہیں آگے جا سکتے ہیں۔ ایران نے اس واقعے کو کھلی جارحیت قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل کا اعلان کیا ہے۔ پاسدارانِ انقلاب نے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا اعلان کیا ہے اور خبردار کیا ہے کہ اس وقت کسی جہاز کو اس مرکزی سمندری گزرگاہ سے گزرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ آبنائے ہرمز سے دنیا کے خام تیل کا تقریبا بیس فیصد گزرتا ہے۔ اس گزرگاہ کی بندش عالمی توانائی منڈی میں شدید ہلچل پیدا کر سکتی ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہتی ہے تو تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ، عالمی افراطِ زر میں تیزی اور مالیاتی منڈیوں میں بے یقینی کا طوفان بعید از قیاس نہیں۔ ایران نے جوابی کارروائی میں متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین اور سعودی عرب میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے، جبکہ بعض سول تنصیبات اور ائرپورٹس بھی زد میں آئے ہیں۔اس سے اتنا واضح ہے کہ یہ کشیدگی اب دو ریاستوں تک محدود نہیں رہی۔ یہ تنازع پورے خلیجی خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے اور اگر ایسا ہوا تو اس کے اثرات عالمی امن اور اقتصادی استحکام پر گہرے ہوں گے۔ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں خبردار کیا ہے کہ ایران کا ردعمل پورے خطے میں پھیل رہا ہے اور پرامن حل کے علاوہ کوئی راستہ نہیں۔ ان کا یہ بیان دراصل عالمی برادری کی بے بسی کی عکاسی کرتا ہے۔ طاقت کے توازن کی سیاست میں بڑی قوتیں اپنے مفادات کے تحت فیصلے کرتی ہیں، جبکہ بین الاقوامی ادارے اکثر بیانات تک محدود رہ جاتے ہیں۔ اس وقت بھی دنیا کو فوری سفارتی مداخلت اور جنگ بندی کی ضرورت ہے، مگر زمینی حقائق جذبات اور ردعمل کی سیاست کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔یہ صورتحال مسلم دنیا کے لیے بھی لمحہ فکریہ ہے۔ ایک طرف ایران پر حملہ اور اس کے ردعمل کی شدت، دوسری طرف خلیجی ریاستوں میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنائے جانے کے بعد ان ممالک کی سلامتی کے خدشات،یہ سب مل کر امتِ مسلمہ کی داخلی تقسیم کو نمایاں کرتے ہیں۔ باہمی اختلافات اور جغرافیائی سیاسی وابستگیاں اس حد تک گہری ہو چکی ہیں کہ کوئی مشترکہ حکمتِ عملی نظر نہیں آتی۔ اس بحران نے یہ حقیقت ایک بار پھر آشکار کر دی ہے کہ مسلم دنیا داخلی اتحاد کے بغیر عالمی سیاست میں موثر کردار ادا نہیں کر سکتی۔ پاکستان نے ایران پر اسرائیلی حملے کی مذمت کی ہے اور ساتھ ہی سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر سے اظہارِ یکجہتی کیا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے مختلف ممالک کی قیادت سے رابطے کیے ہیں۔ یہ سفارتی سرگرمی قابلِ تحسین ہے، مگر پاکستان سمیت تمام مسلم ممالک کو محض بیانات سے آگے بڑھ کر عملی ثالثی کی کوشش کرنی چاہیے۔ پاکستان کے لیے یہ لمحہ نہایت حساس ہے۔ ایک طرف ایران ہمسایہ ملک ہے، دوسری طرف خلیجی ریاستوں سے قریبی اقتصادی اور دفاعی روابط ہیں۔ اس توازن کو برقرار رکھنا دانشمندی کا تقاضا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ طاقت کا بے قابو استعمال خطے کو ایک ایسی جنگ میں دھکیل سکتا ہے جس کے اثرات دہائیوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ آبنائے ہرمز کی بندش، توانائی رسد کی رکاوٹ، فضائی حدود کی بندش اور میزائل حملوں کا تسلسل عالمی تجارت کو مفلوج کر سکتا ہے۔ اگر تیل کی قیمتیں سو ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرتی ہیں تو ترقی پذیر معیشتوں کے لیے شدید مالی بحران پیدا ہو سکتا ہے۔ پہلے ہی عالمی معیشت سست روی کا شکار ہے۔ ایسے میں ایک وسیع جنگ عالمی کساد بازاری کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔ صورتحال کے تجزیہ کا مقصد جذبات کو بھڑکانا نہیں بلکہ ہوش کی تلقین کرنا ہے۔ آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت ایک بڑا سانحہ ہے، مگر اس سانحے کا جواب ایک ہمہ گیر جنگ نہیں ہو سکتا۔ تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں شروع کرنا آسان اور ختم کرنا مشکل ہوتا ہے۔ ہر میزائل کے ساتھ نفرت کی نئی دیوار کھڑی ہوتی ہے اور ہر حملے کے بعد مذاکرات کی میز مزید دور چلی جاتی ہے۔ اگر اس وقت اشتعال کو قابو میں نہ رکھا گیا تو آنے والی نسلیں اس کے نتائج بھگتیں گی۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ فوری جنگ بندی، عالمی ثالثی اور براہِ راست مذاکرات کا آغاز کیا جائے۔ خطے کی قیادت کو چاہیے کہ وہ جذباتی نعروں کے بجائے تدبر کا راستہ اپنائے۔ مسلم دنیا کو باہمی اختلافات سے بالاتر ہو کر ایک مشترکہ امن حکمتِ عملی تشکیل دینی چاہیے۔ عالمی برادری کو بھی دوہرے معیار ترک کر کے غیر جانبدار کردار ادا کرنا ہوگا۔ یہ وقت ہے کہ بندوقوں کی گھن گرج کے بجائے مکالمے کی آواز بلند کی جائے۔ اگر طاقت کے استعمال کو ہی حل سمجھ لیا گیا تو یہ آگ سرحدوں کو نہیں پہچانے گی۔ صبر، تحمل اور سیاسی بصیرت ہی اس بحران سے نکلنے کا راستہ فراہم کر سکتی ہے۔ دنیا پہلے ہی بے یقینی کے دور سے گزر رہی ہے۔ اسے مزید ایک بڑے تصادم کی نہیں بلکہ دانشمند قیادت کی ضرورت ہے۔
٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here