اپریل 2026 کی تاریخ عالمی تاریخ میں ایک ایسے سیاہ باب کے طور پر درج ہونے جا رہی ہے جس کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ کرہ ارض کے ہر گوشے تک محسوس کیے جائیں گے۔ امریکی قیادت کی جانب سے آبنائے ہرمز کی مکمل بحری ناکہ بندی کا فیصلہ ایک ایسی مہم جوئی ہے جس نے بین الاقوامی سفارتی آداب اور سمندری قوانین کو بالائے طاق رکھ دیا ہے۔ یہ تنگ سمندری گزرگاہ جو خلیج فارس کو بحر عرب سے ملاتی ہے، محض ایک جغرافیائی راستہ نہیں بلکہ یہ عالمی توانائی اور معاشی استحکام کی کلید ہے۔ اس شہ رگ پر عسکری پہرے بٹھانے کا مطلب پوری دنیا کی معیشت کو یرغمال بنانا ہے، کیونکہ یہاں سے روزانہ لاکھوں بیرل خام تیل اور مائع گیس کی ترسیل ہوتی ہے جو عالمی کارخانوں اور گھروں کے چراغ روشن رکھتی ہے۔ ٹرمپ کا یہ اعلان کہ وہ ان تمام بحری جہازوں کو قبضے میں لے لے گا جنہوں نے تہران کو گزرگاہ کا محصول ادا کیا ہے، دراصل بین الاقوامی تجارت کے بنیادی ڈھانچے پر خودکش حملہ ہے۔ اس اقدام نے نہ صرف ایران بلکہ ان تمام ممالک کو بھی براہ راست نشانے پر لے لیا ہے جو اپنی توانائی کی ضروریات کے لیے اس خطے پر انحصار کرتے ہیں۔
اس پورے منظر نامے میں سب سے حیرت انگیز اور تشویشناک پہلو امریکہ کے اپنے دیرینہ اتحادیوں کا رویہ ہے، جنہوں نے اس بار واشنگٹن کے کندھے سے کندھا ملا کر چلنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ برطانیہ اور آسٹریلیا جیسے ممالک کی جانب سے اس ناکہ بندی کا حصہ بننے سے معذرت اس بات کا واشگاف اعلان ہے کہ دنیا اب کسی ایک ریاست کی من مانی اور عسکری جنونیت کو مزید برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ اس سفارتی تنہائی نے امریکی موقف کو کمزور کر دیا ہے اور یہ ثابت کر دیا ہے کہ طاقت کا توازن اب بدل رہا ہے۔ ایران نے بھی اس اشتعال انگیزی کے جواب میں خاموشی اختیار کرنے کے بجائے سخت تزویراتی انتباہ جاری کیا ہے کہ اگر اس کے مفادات کو زک پہنچائی گئی تو وہ باب المندب جیسی دیگر کلیدی گزرگاہوں کو بھی بند کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ ایک ایسی صورتحال ہے جس میں اگر ایک بار بارود کی چنگاری بھڑک اٹھی تو اس کی تپش کو بجھانا کسی کے بس میں نہیں رہے گا۔
عسکری اعتبار سے دیکھا جائے تو آبنائے ہرمز کی جغرافیائی ساخت ایران کو ایک ایسی برتری فراہم کرتی ہے جس کا مقابلہ بڑے بحری بیڑوں کے لیے بھی دشوار ہے۔ یہاں کی بلند و بالا پہاڑی چوٹیاں اور تنگ سمندری راستے ایرانی دفاعی نظام کو یہ موقع دیتے ہیں کہ وہ اپنی ساحل سے سمندر میں مار کرنیوالے میزائلوں اور خودکش ڈرونز کے ذریعے کسی بھی جدید ترین جہاز کو مفلوج کر دے۔ امریکی بحری بیڑے کے لیے اتنے مختصر اور مقید علاقے میں اپنی حفاظت کرنا خود ایک بڑا مسئلہ بن جائے گا، جبکہ ایران کی غیر روایتی جنگی حکمت عملی اور تیز رفتار کشتیاں سمندر میں بارودی سرنگیں بچھا کر پورے تجارتی نظام کو معطل کر سکتی ہیں۔ تاریخ ہمیں سکھاتی ہے کہ سمندری راستوں کو فوجی طاقت سے بند کرنا تو شاید لمحوں کا کام ہو، لیکن انہیں دوبارہ پرامن تجارت کے لیے کھولنا اور عالمی منڈیوں کا اعتماد بحال کرنا برسوں کی محنت مانگتا ہے۔
اس سنگین صورتحال میں ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مذہب اور سیاست کا ملاپ معاملے کو مزید بھیانک بنا رہا ہے۔ اپنی سیاسی ناکامیوں اور اندرونی خلفشار سے توجہ ہٹانے کے لیے خود کو ایک مذہبی مسیحا کے طور پر پیش کرنا اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے مقدس علامتوں کا سہارا لینا ایک ایسی خطرناک روش ہے جو عیسائی دنیا کے اندر بھی گہری خلیج پیدا کر رہی ہے۔ جب سیاسی قیادت عقل و دانش کے بجائے وہم اور مقدس جنگوں کے لبادے میں فیصلے کرنے لگے تو تباہی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی برادری محض تماشائی بننے کے بجائے فوری طور پر متحرک ہو اور اقوام متحدہ جیسے ادارے اپنی ذمہ داریوں کا ادراک کریں۔ اگر اس وقت خاموشی اختیار کی گئی تو تاریخ اس دور کو ایک ایسی فاش غلطی کے طور پر یاد رکھے گی جس نے انسانیت کو ایک ایسے معاشی اور فوجی گرداب میں دھکیل دیا جہاں سے واپسی کا راستہ شاید صدیوں تک نہ مل سکے۔ عالمی امن اس وقت ایک ایسے نازک موڑ پر ہے جہاں ایک غلط فیصلہ پوری دنیا کو بارود کے ڈھیر میں تبدیل کر سکتا ہے۔













