حضرت نوری بریلوی اپنے کلام کے آئینے میں
حضرت نوری بریلوی اپنے کلام کے آئینے میں کے عنوان سے سید اولاد رسول قدسی مصباحی کے اس مضمون کی دوسری قسط میں نعت گوئی کی شرعی اور تاریخی حیثیت پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ خود فرماتے ہیں کہ ہم لوگوں سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم لوگ اشعار کے ذریعہ مشرکین کی ہجو کرو کیونکہ مومن اپنی جان اور مال سے جہاد کرتا ہے اور تمہارے اشعار گویا کفار کے حق میں تیروں کی مار کے برابر ہیں۔ اسی طرح حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ وہ خوش نصیب نعت گو صحابی رسول ہیں کہ جن کو خود سرکار نے سید الشعراء کے لقب سے سرفراز فرمایا۔ جہاں تک بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کے شعراء کا تعلق ہے ان میں مقبول اور مشہور ترین شاعر حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ ہیں۔ آپ کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ آپ کے اشعار سے خوش ہو کر نہ صرف یہ کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بارگاہ خداوندی میں دعا فرمائی کہ یا اللہ حضرت جبریل امین علیہ السلام کے ذریعہ ان کی مدد فرما بلکہ یہ ارشاد بھی فرمایا کہ جب تک یہ میری طرف سے کفار مکہ کو اپنے اشعار کے ذریعہ جواب دیتے رہتے ہیں اس وقت تک جبریل علیہ السلام ان کے ہمراہ رہا کرتے ہیں۔ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو منبر رسول پر بٹھا کر اپنی نعت سماعت فرمایا کرتے اور انعام واکرام سے بھی نوازا کرتے تھے۔ یوں تو آپ کی کہی ہوئی نعتیں احادیث کے زریں صفحات میں موتیوں کی طرح ضوبار ہیں لیکن آپ کے مندرجہ ذیل اشعار زبان زد خاص و عام ہیں۔
ان فصیح ابیات کا مفہوم یہ ہے کہ اے اللہ کے محبوب میری آنکھ نے آج تک آپ سے زیادہ حسین و جمیل نہیں دیکھا اور نہ کسی عورت نے آپ سے زیادہ حسین و جمیل بچہ جنا۔ آپ ہر قسم کے عیب سے پاک پیدا کیے گئے گویا آپ کو آپ کے منشاء کے مطابق وجود بخشا گیا۔ اے رسول خدا کے دشمن تو نے برائی کی ہے کس کی ؟محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جو سراپا کرم ہیں۔
قارئین کی معلومات کے اضافے کی خاطر چند اور مشہور صحابہ کرام کے ایسے نعتیہ اشعار بھی پیش کیے ہیں جو سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم سے بے پناہ وارفتگی اور شیفتگی کی عکاسی کرتے ہیں۔
٭٭٭














