دہشتگردی آخر کب تک؟

0
17
جاوید رانا

ہم جن لمحات میں یہ کالم تحریر کر رہے ہیں دین مبارک کا اہم رکن حج اکبر جاری ہے اور لاکھوں فرزندان فرض کی ادائیگی میں مصروف عبادات و ریاضتوں کو پور اکر رہے ہیں تو اکناف عالم میں کروڑ ہا بلکہ اربوں مسلمان سنت ابراہیمی کی پیروی میں قربانی کا فریضہ ادا کر رہے ہیں۔ ہماری جانب سے امت مسلمہ کے ادائیگی فرض حج اور سنت ابراہیمی کے اتباع پر دل کی گہرائیوں سے مبارکباد اور قبولیت کی دعائیں۔ اس مقدس و مبارک موقعہ پر عید الاضحیٰ سے پانچ روز قبل چمن میں بی ایل اے کا شٹل ٹرین پر دہشتگردانہ حملہ اور عید کی خوشیاں منانے کیلئے اپنے گھروں کو جانے والوں کی شہادتیں اور درجنوں لوگوں بشمول خواتین و بچوں کی مضروبیت نے ان مظلوموں کے والدین، سہاگوں، بچوں اور خاندانوں کو ہی نہیں ساری قوم کو دکھوں اور آنسوئوں کے گرداب میں ڈبو دیا ہے۔
قارئین کو یاد ہوگا کہ عید کے موقع پر بی ایل اے نے پہلے بھی جعفر ایکسپریس پر حملہ کر کے خون کی ہولی کھیلی تھی، ان دہشتگرد بھارتی و اسرائیلی پراکسیز کا واحد مقصد اپنی آزادی کے نام نہاد مشن کی آڑ میں مملکت پاکستان کو دو لخت کرنا اور یہود و ہنود کے منصوبے کو تکمیل تک پہنچانا ہی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بی ایل اے ہو یا دوسری علیحدگی پسند تنظیمیں یا بھارت و افغانستان کی پروردہ خوارج ہماری ریاست وحکومت سب کچھ جانتے ہوئے بھی بلکہ ان کیخلاف بھرپور کارروائیوں کے باوجود بھی ان شیطانوں کے دہشتگردانہ منصوبوں اور اقدامات کی بیخ کنی کیوں نہیں کر سکتی ہیں؟ سوال یہ بھی ہے کہ دشمنوں کو بدترین شکست و رسوائی سے دوچار کرنے اور دنیا بھر میں اپنی کامیابی اور قدر و منزلت کی حامل ہماری ریاست کی سیکیورٹی و انٹیلی جنس ایجنسیز کیوں اپنے فرائض و ذمہ داریوں میں ناکام ہو چکی ہیں کہ انہیں دشمن قوتوں کے منصوبوں اور اہداف کی خبر ہی نہیں ہوتی ہے کہ سانپ گزر جائے تو لکیر پیٹی جاتی ہے۔ بلوچستان میں دہشتگردی کا یہ پہلا واقعہ تو نہیں، علیحدگی پسندوں کے خوں آشام واقعات کا طویل سلسلہ ہے اور ہر بار دہشتگردی کے بعد حکومتی و ریاستی ذمہ داران ”نہیں چھوڑیں گے، قلع قمع کر دینگے، انجام کو پہنچائیں گے”۔ کی گردان کرتے ہیں، ہماری عرض یہ ہے کہ حکومت اور مقتدرہ کی اس امر پر توجہ کیوں نہیں کہ دشمن قوتوں اور ایجنسیز کیخلاف اپنی ایجنسیز اور سکیورٹی کو مضبوط اور اپڈیٹ کیا جائے، مزید یہ کہ وطن کے تحفظ و سالمیت کیلئے عوام، ریاست، حکومت، سیاسی و دیگر طبقات ایک ہی ٹریک پر متفق و متحد ہوں۔
ہم نے اپنے گزشتہ کالم ”سب سے پہلے گھر کو دیکھو” میں پاکستان کی ایران و امریکہ محاذ آرائی میں ثالثی اور مصالحتی کوششوں پر اپنے خیالات کیساتھ سرسری طور پر عرض کیا تھاکہ وطن قوم کے مفاد وحدت و استحکام کیلئے اقتدار پر متمکن اشرافیہ کو گھر کی جانب بھی توجہ دینی ہوگی تب ہی عالمی امتیاز ممکن ہوگا۔ ہم نے ایران امریکہ تنازعے کے حوالے سے نیتن یاہو اور ہندتوا شیطان کی سازشی فطرت کی بھی نشاندہی کی تھی، ایران و امریکہ کے درمیان میمورینڈم آف انٹینٹ تو ہو گیا اور روبیو و ٹرمپ نے پاکستان کی کوششوں کو سراہا بھی لیکن 60 روزہ مذاکرات کا نتیجہ، سابق سیکرٹری خارجہ پومپیو اور دیگر صہیونی لابی کے ریپبلکن سینیٹرز کی در اندازی یقیناً باعث فکر ہے، ٹرمپ کی مسلم رہنمائوں اور فیلڈمارشل کو کانفرنس کال اور معاہدے کوابراہم اکارڈ تسلیم کرنے کی شرط صہیونی سازش ہی ہے بلکہ دہشتگردی کی پکی مثال۔ ایران امریکہ ایشو کے جو نتائج بھی ہوں، چمن میں ہونیوالی دہشتگردی میں ہمارے اس مؤقف کی تائید ہو گئی ہے کہ وطن عزیز کے تحفظ کیلئے ریاستی، سیاسی، عوامی و معاشی استحکام کیلئے رقابتوں، منافرتوں اور مدافعتی مظالم کو خیر با دکہنا ہوگا۔ ملک دشمنوں سے نمٹنے کا واحد راستہ اتفاق، اتحاد اور یکجہتی میں ہی ہے۔ غیروں کے معاملات حل کروانے کیساتھ اپنے وطن کو بچانا ہوگا کیونکہ وطن نہیں تو کچھ بھی نہیں!!!۔
٭٭٭٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here