محترم قارئین کرام، آپ کی خدمت میں سید کاظم رضا نقوی کا سلام پہنچے۔ ہمارے اطراف ایسے بہت سے واقعات مل جاتے ہیں جہاں انسان اپنی شرافت، انسانیت اور اعلیٰ تربیت کا عملی مظاہرہ کرکے ثابت کر دیتا ہے کہ مایوسی گناہ ہے۔ جب توکل علی اللہ پر یقین کامل کے ساتھ ایک قدم اچھائی کی طرف بڑھایا جائے تو راستے خود بخود کھل جاتے ہیں، راہ کے کانٹے صاف ہوکر جگہ بنا دیتے ہیں اور کامیاب انسان دکھی دلوں کی دعائیں لے کر اس دنیا میں نیکیاں سمیٹ لیتا ہے۔ ایسا ہی ایک ایمان افروز اور سبق آموز واقعہ آج آپ کی نظر کیا جا رہا ہے جس پر اپنے قیمتی تبصرے سے ضرور نوازئیے گا۔ مجھے قوی امید ہے کہ اسے پڑھ کر آپ کو دلی مسرت اور اطمینان حاصل ہوگا۔
یہ واقعہ 2011 میں پنجاب کے شہر حافظ آباد میں پیش آیا، جہاں غریب کی آہ سے ڈرنے والا پنجاب پولیس کا ایک غیرت مند سب انسپکٹر تین گھر سے بھاگی ہوئی بہنوں کی بازیابی کے لیے سندھ کے بااثر وڈیرے سے ٹکرا گیا۔ ان دنوں سب انسپکٹر نور احمد تھانہ سٹی حافظ آباد میں تعینات تھے جب ایک روز ایک غریب مزدوری پیشہ شخص تھانے میں یہ شکایت لے کر آیا کہ اس کی تین جوان بیٹیاں، جن کی عمریں بالترتیب اٹھائیس، پچیس اور اٹھارہ سال ہیں، اچانک گھر سے غائب ہو گئی ہیں۔ اس لاچار باپ نے سارا دن انہیں تلاش کیا مگر ان کا کہیں سراغ نہ ملا، جس پر اسے اندیشہ تھا کہ اس کی بیٹیوں کو اغوا کر لیا گیا ہے۔ مدعی چونکہ انتہائی غریب اور بے بس شخص تھا، اس لیے مقامی ذرائع ابلاغ نے بھی اس معاملے کو بھرپور طریقے سے اٹھایا۔ میڈیا پر خبریں نشر ہونے کے بعد صوبائی دارالحکومت لاہور سے اعلیٰ حکام کی جانب سے فوری حکم نامہ جاری ہوا کہ لڑکیوں کو جلد از جلد بازیاب کرایا جائے۔ ابتدائی ایک دو دن مقامی پولیس نے روایتی انداز میں کوششیں کیں مگر لڑکیوں کا کچھ پتہ نہ چل سکا۔ ان دنوں معلوماتی ٹیکنالوجی کے شعبے میں کال ریکارڈ کے حصول کی سہولت اتنی جدید اور تیز نہیں تھی، چنانچہ جب کچھ روز مزید گزر گئے تو اس کیس کے تفتیشی افسر سب انسپکٹر نور محمد کو یہ یقین ہو گیا کہ کسی بھی وقت وزیر اعلیٰ شہباز شریف کا ہیلی کاپٹر علاقے میں لینڈ کر سکتا ہے اور وہ غفلت کے جرم میں ملازمت سے فارغ ہو سکتے ہیں، کیونکہ اس دور میں وزیر اعلیٰ کی جانب سے معطل کردہ اہلکار یا افسر کا بحال ہونا شاذ و نادر ہی ممکن ہوتا تھا۔دوسری جانب لڑکیوں کا بوڑھا اور لاچار والد ہر وقت تھانے کے گیٹ پر بیٹھا روتا رہتا اور تفتیشی افسر کے سامنے فریاد کرتا کہ جناب میری غریبی پر رحم کریں اور کچھ کریں۔ یہ دردناک حالات دیکھ کر سب انسپکٹر نور محمد نے دل سے دعا کی کہ یا اللہ مجھے اس غریب اور مظلوم شخص کی مدد کرنے کی ہمت اور طاقت عطا فرما۔ اسی روز پولیس کے معلوماتی ٹیکنالوجی سیل نے انہیں اہم معلومات فراہم کیں کہ وہ موبائل فون جو لڑکیاں اپنے ساتھ لے کر گئی تھیں، وہ سندھ کے ضلع گھوٹکی اور شہر ڈھرکی کے گردونواح میں آن ہوا ہے۔ افسران بالا کو جب اس پیش رفت کی اطلاع دی گئی تو انہوں نے وزیر اعلیٰ کے متوقع دورے اور کارروائی کے خوف سے فوری طور پر ایک ٹیم سندھ بھیجنے کا حکم جاری کیا۔ تاہم اس وقت تھانے میں نفری انتہائی کم تھی، جس کے باعث تھانے کے بڑے افسر یعنی ایس ایچ او نے سب انسپکٹر نور محمد کو حکم دیا کہ وہ ایک کانسٹیبل اور لڑکیوں کے والد کو ساتھ لے کر سندھ روانہ ہو جائیں، اور وہاں پہنچ کر لڑکیوں کا کوئی سراغ ملنے یا ضرورت پڑنے پر مزید نفری پیچھے روانہ کر دی جائے گی۔ سب انسپکٹر نور محمد نے اس کڑے وقت میں اپنے ایک دوست سے کار ادھار لی اور مدعی کو ساتھ لے کر سندھ جا پہنچے۔
ڈھرکی تھانے پہنچ کر وہاں کے مقامی ایس ایچ او کے سرد رویے اور حالات کو دیکھ کر نور محمد بھانپ گئے کہ یہ شخص ان کے ساتھ کوئی مخلصانہ تعاون نہیں کرے گا۔ بہرحال پنجاب اور سندھ کے اعلیٰ افسران کے احکامات موجود تھے، اس لیے مقامی ایس ایچ او نے بادل نخواستہ ایک اسسٹنٹ سب انسپکٹر یعنی صوبیدار کو پنجابی تھانیدار نور محمد کے حوالے کیا اور انہیں مطلوبہ جگہ پر جا کر خواتین کو تلاش کرنے کی ہدایت کی۔ یہ مقامی صوبیدار جان بوجھ کر صبح سے شام تک نور محمد اور کانسٹیبل کو ویرانوں اور غلط راستوں پر پھراتا رہتا اور شام کو بغیر کسی نتیجے کے تھانے واپس لے آتا۔ تین دن تک اس نے ایک بھی مقامی شخص سے ان تین پنجابی لڑکیوں کے بارے میں کوئی تفتیش نہ کی۔ اس رویے سے تنگ آکر سب انسپکٹر نور محمد نے خود حکمت عملی بدلنے کا فیصلہ کیا اور بانس کا ایک مضبوط ڈنڈا ہاتھ میں اٹھا کر ایک ممکنہ مشکوک ٹھکانے، جو کہ ایک ڈیرہ تھا، وہاں پہنچ گئے۔ انہوں نے ڈیرے کے باہر بندھے مویشیوں کو رسیوں سے کھولنا شروع کر دیا، جس پر اندر موجود خواتین گھبرا کر باہر نکل آئیں۔ سب انسپکٹر نور محمد نے رعب دار آواز میں انہیں دھمکایا کہ تم لوگوں نے پنجاب سے آئی ہوئی تین لڑکیاں یہاں چھپا رکھی ہیں، اب پنجاب پولیس کی بھاری نفری یہاں پہنچنے والی ہے جو تم سب کو مع مال مویشی پنجاب لے جائے گی اور تم سب کو جیل میں بند کر دیا جائے گا۔ اس سخت دھمکی نے فوری اثر دکھایا اور وہ خواتین دوڑتی ہوئی مقامی وڈیرے کے پاس پہنچ گئیں۔ وڈیرے نے غصے میں آکر ڈھرکی تھانے کے ایس ایچ او کو فون کیا اور سخت احتجاج کیا کہ ایک بیرونی پولیس والے کی یہ جرأت کیسے ہوئی کہ وہ میرے علاقے کے لوگوں کو دھمکیاں دے۔ اس پر مقامی ایس ایچ او نے فوری طور پر نور محمد کو فون کیا اور شدید گھبراہٹ میں کہا کہ تم خود بھی مرو گے اور مجھے بھی مرواؤ گے، تم جہاں کہیں بھی ہو فوراً تھانے واپس پہنچو۔ سب انسپکٹر نور محمد نے سندھی ایس ایچ او کو انتہائی دلیری سے جواب دیا کہ اگر میں اس نیک کام میں مارا گیا تو شہید کہلاؤں گا، اور ڈھرکی سے حافظ آباد تک میری میت جہاں سے بھی گزرے گی مجھ پر پھول برسائے جائیں گے اور مجھے سلامی کے ساتھ قومی پرچم میں لپیٹ کر دفن کیا جائے گا، کیونکہ میرا ایمان ہے کہ شہید مرتا نہیں بلکہ زندہ رہتا ہے، البتہ تمہارے جو کرتوت ہیں اس سے لگتا ہے کہ جس روز تم مرو گے تمہارے نام کے ساتھ ہلاک کا لفظ لکھا جائے گا۔
جب نور محمد ڈھرکی تھانے واپس پہنچے تو مقامی ایس ایچ او کا رویہ یکسر بدل چکا تھا، اس نے خوف اور احترام کے مارے انہیں کھجوریں پیش کیں اور چائے پلوائی۔ اسی دوران ایک کار کے ذریعے تینوں لڑکیوں کو تھانے پہنچا دیا گیا۔ تفتیش کے دوران یہ سنسنی خیز انکشاف ہوا کہ ان میں سے دو لڑکیوں نے وہاں پسند کی شادی کر لی تھی جبکہ تیسری لڑکی ان کے ساتھ ویسے ہی رہ رہی تھی۔ اصل حقائق یہ سامنے آئے کہ بڑی بہن نے موبائل فون پر سندھ کے ایک شخص سے بات چیت شروع کی تھی، جس نے لڑکی کو سنہرے خواب دکھائے اور وہ لڑکیاں غربت و مفلسی کی زندگی سے نجات اور سکون پانے کے چکر میں ٹرین میں بیٹھ کر سندھ پہنچ گئیں۔ بوڑھے والد نے جب اپنی بیٹیوں کے اس اقدام کو دیکھا تو اس نے غیرت کے نام پر نکاح کرنے والی دونوں بڑی بیٹیوں کو اپنے ساتھ واپس لے جانے سے صاف انکار کر دیا، تاہم وہ اپنی تیسری اور سب سے چھوٹی بیٹی کو واپس گھر لے جانے پر راضی ہو گیا۔ اس تمام پیش رفت سے پنجاب میں موجود اعلیٰ افسران کو آگاہ کیا گیا، جس کے بعد ضروری کاغذی کارروائی مکمل کی گئی اور بیانات قلمبند ہوئے۔ یوں سب انسپکٹر نور محمد ایک بازیاب شدہ لڑکی، مدعی اور اپنے ساتھی کانسٹیبل کے ساتھ کامیاب و کامران ہو کر واپس حافظ آباد پہنچ گئے۔
محترم قارئین، ہمیں ایسے ہی فرض شناس، دلیر اور انسانیت سے محبت کرنے والے افسران وطن پاک کے ہر محکمے میں چاہییں جو اپنی ذمہ داریاں بحسن و خوبی انجام دیں۔ ایسے مخلص لوگ ہمارے ملک میں آج بھی موجود ہیں، لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ ایسے لوگوں کو سراہا جائے، ان کی حوصلہ افزائی کی جائے اور انہیں اہم ذمہ داریاں تفویض کی جائیں۔ دعا ہے کہ ایسے نیک نیت لوگ ہمارے تمام سرکاری محکموں کی باگ ڈور سنبھالیں تاکہ ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔ آمین۔














