فیضان محدّث اعظم پاکستان رضی اللہ عنہ

0
19

فیضان محدّث اعظم پاکستان رضی اللہ عنہ

محترم قارئین! ماں سے اپنے بچے کی جدائی برداشت نہ ہوسکی اور اس نے بے تحاشا دوڑ کر بچے کو باپ کے ہاتھ سے چھین کر اپنے سینے سے لپٹا لیا۔ حضرت احمد یزید نے پلٹ کر ایک بار اپنے لخت جگر کو دیکھا تو پلکوں کا آنسو سینے کی تپتی ہوئی خاکستر میں جذب ہو کر رہ گیا۔ اسی اثنا میں فضا میں ایک درد ناک نعرے کی آواز گونجی جس سے لوگوں کے دل دھل گئے۔ جب آنکھ کھلی تو حضرت احمد یزید نگاہوں سے اوجھل ہوچکے تھے۔ چاندنی رات تھی اور حضرت سری سقطی رضی اللہ عنہ عشاء کی نماز سے فارغ ہو کر چہل قدمی کر رہے تھے کہ ایک شخص نے حاضر ہو کر سلام عرض کیا اور کہا کہ میں احمد یزید کا ایک اہم پیغام لے کر حاضر ہوا ہوں۔ آپ نے فرمایا کہ ہاں بتائیے، تو اس شخص نے کہا کہ احمد یزید کہتے ہیں کہ میری موت کا وقت قریب آگیا ہے اور ایسے نازک مرحلے میں آپ کی تشریف آوری میری تسکین خاطر کا ذریعہ ہوگی۔ یہ خبر سن کر حضرت سری سقطی رضی اللہ عنہ آبدیدہ ہوگئے۔
انہوں نے حاضرین مجلس سے فرمایا کہ خدا کا ایک مسکین بندہ جس کے نالہ عشق شبگیر سے صحرائے عشق میں ایک شور برپا تھا، افسوس کہ آج اس کا آخری وقت آگیا ہے۔ اب رات کی تنہائیوں کا پرسوز فریادی اور ویرانوں کا وہ عظیم عبادت گزار ہمیشہ کے لیے دنیا سے رخصت ہو رہا ہے۔ چلو اس چراغ حرم کی بجھتی ہوئی لو کو آخری بار دیکھ آئیں کیونکہ رحمت پروردگار کے نزول کی یہ آخری اور اہم گھڑی ان پر آگئی ہے۔ یقیناً رحمت خداوندی تو برستی رہے گی لیکن یہ نظارہ آخری ہے۔ اس کے بعد کہیں یہ زہے نصیب! یہ کہتے ہوئے آپ اچانک اٹھے اور اس اجنبی شخص کے پیچھے پیچھے چل پڑے۔ بغداد کے ایک مشہور قبرستان میں پہنچ کر وہ اجنبی شخص رک گیا اور ایک نحیف و لاغر شخص کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگا کہ یہی وہ عالم جاوید کا مسافر ہے جس نے دم رخصت آپ کو یاد کیا ہے۔ حضرت سری سقطی رضی اللہ عنہ نے بالیں کے قریب بیٹھ کر آواز دی تو احمد یزید نے آنکھیں کھول دیں اور ہچکی لیتی ہوئی سانس میں کہا کہ میرے مرشد! گواہ رہنا کہ میں توحید الہیٰ اور رسالت محمدی کے اقرار پر اپنا دم توڑ رہا ہوں۔ ایک بندہ سیاہ کار اپنے رب کے حضور اس حال میں جارہا ہے کہ اس کا نامہ عمل گناہوں سے بوجھل ہے۔ اسے زندگی کی طویل مہلت ملی لیکن اپنے پروردگار کی خوشنودی کا وہ کوئی سامان نہ کرسکا، یہ کہتے کہتے آواز حلق میں پھنس گئی، آنکھوں سے دو موتی ڈھلکے اور گریباں کے دھجوں میں جذب ہوگئے۔ آنکھوں کے بند ہوتے ہی لبوں میں ایک جنبش پیدا ہوئی اور کلمہ شہادت کی مدھم سی آواز پر روح عالم بالا کی طرف پرواز کر گئی۔
حضرت سری سقطی رضی اللہ عنہ سے مرگ عاشق کا یہ درد ناک منظر دیکھا نہ گیا اور فرط غم سے ان کی آنکھیں ڈبڈبا آئیں۔ اللہ کے بندوں کا دنیا سے جانا بھی کیا کمال بات ہے۔ دنیا اور زندگی کی حقیقت کو سمجھ لینا بہت بڑا درجہ ہے اور یہ خوبی اولیاء اللہ کو حاصل ہوتی ہے، اسی وجہ سے دنیا سے جاتے ہوئے ان کے لبوں پر مسکراہٹ ہوتی ہے اور چہرے پر عجب قسم کا سکون و اطمینان ہوتا ہے۔ ان تمام امور کو دیکھ کر حضرت سری سقطی رضی اللہ عنہ نے آسمان کی طرف منہ کر کے کہا کہ تیری ادائے بے نیازی کے قربان! باغیوں کو حریر و دیبا کی مسند اور پھولوں کی سیج پر موت آتی ہے اور تیری مملکت کے وفا شعار مسکینوں کو ایک ٹوٹا ہوا بوریہ بھی میسر نہیں ہے۔ یہ کہہ کر تجہیز و تکفین کے ارادے سے وہ شہر کی طرف جونہی پلٹے تو دیکھا کہ ہر طرف سے لوگوں کا ہجوم چلا آرہا ہے۔
آپ نے اچنبھے سے دریافت کیا کہ آپ لوگ کہاں جارہے ہیں؟ لوگوں نے جواب دیا کہ ابھی ابھی آسمان سے ایک غیبی آواز سنائی پڑی ہے کہ جو لوگ خدا کے ایک ولی مقرب کے جنازے میں شریک ہونا چاہتے ہیں وہ شونیز کے قبرستان میں جمع ہوجائیں۔ اس آواز کو سن کر سارا بغداد امنڈتا ہوا چلا آرہا ہے۔ حضرت سری سقطی رضی اللہ عنہ نے یہ خبر سن کر پھر آسمان کی طرف رخ کیا اور کہا کہ تیری شان بندہ نوازی کے قربان! زمین کی ننگی پیٹھ پر ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرنے والوں کا یہ اعزاز ہے کہ جو عمر بھر دشت غربت میں زندگی کی شام و سحر گزارتا رہا آج سارا بغداد اس کے قدموں میں جمع کر دیا گیا ہے۔ دنیائے فانی میں جس عاشق گمنام کی توقیر کا یہ حال ہے، عالم جاوید میں اس کی شوکتوں کا کون اندازہ کرسکتا ہے؟ تو نے اپنی کتاب مجید میں سچ فرمایا ہے کہ اللہ نیکو کاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔
پس حقیقت دنیا کو سمجھ کر اپنے شب و روز اخلاص و للّٰہیت میں عبادت و ریاضت کرتے ہوئے گزر جائیں تو یہ سودا بہت اعلیٰ ہے اور پھر اس جزا کا اندازہ نہ دنیا میں لگایا جاسکتا ہے اور نہ آخرت میں۔ ہر اعتبار سے کامیابی کے خواہاں انسان کو اخلاص و للّٰہیت اپنے عمل میں اپنائی پڑے گی، خواہ وہ عمل حج کا ہو یا قربانی کا۔ اسی لئے اللہ پاک نے قربانی کے سلسلہ میں فرمایا ہے کہ جانوروں کا گوشت اور خون اللہ کو نہیں پہنچتا بلکہ تقویٰ اسے پہنچتا ہے۔ جو عمل اللہ کی بارگاہ میں محبوبیت کا درجہ حاصل کرلے تو اس کی جزا بے حساب و کتاب ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ہر عمل میں اخلاص کی دولت سے نوازے اور ہر عمل کو قبولیت کا درجہ عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین۔ سب احباب کو عیدالاضحیٰ کی خوشیاں مبارک ہوں اور اللہ پاک سب کی قربانیاں قبول فرمائے۔ آمین۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here