دوہری شہریت اور پاکستانی بیوروکریسی کا معاملہ ہمیشہ سے ملکی سیاست اور انتظامیہ میں بحث کا مرکز رہا ہے جس کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان نے سول بیوروکریسی میں شفافیت، احتساب اور قومی مفادات کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے سول سرونٹس کی غیر ملکی شہریت اور دہری شہریت سے متعلق نئے قواعد نافذ کر دیے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف کی منظوری کے بعد اس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے جسے انتظامی اصلاحات کی جانب ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ پاکستان میں گزشتہ کئی برسوں سے یہ بحث جاری رہی ہے کہ سرکاری عہدوں پر فائز بعض افسران غیر ملکی شہریت، مستقل رہائش یا دیگر بیرونی وابستگیوں کے حامل ہوتے ہیں لیکن ان معلومات کو ہمیشہ مکمل طور پر ظاہر نہیں کیا جاتا تھا۔ اس صورتحال نے نہ صرف شفافیت کے حوالے سے سنگین سوالات کو جنم دیا بلکہ قومی مفادات اور مفادات کے ممکنہ ٹکراؤ کے خدشات بھی پیدا کیے۔
اسی تسلسل میں اب نئے قواعد کے تحت تمام سول سرونٹس پر لازم قرار دیا گیا ہے کہ وہ اپنی، اپنی شریک حیات اور زیر کفالت بچوں کی غیر ملکی شہریت، غیر ملکی پاسپورٹ، مستقل رہائش، امیگریشن اسٹیٹس اور دیگر غیر ملکی وابستگیوں کی مکمل تفصیلات متعلقہ حکام کو فراہم کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ اگر کسی افسر کو مستقبل میں ایسی کوئی حیثیت حاصل ہوتی ہے تو اسے بھی مقررہ مدت کے اندر رپورٹ کرنا ہوگا۔ حکومت نے ان قواعد کی خلاف ورزی کو سختی سے لینے کا فیصلہ کیا ہے جس کے مطابق غیر ملکی شہریت یا متعلقہ معلومات کو چھپانا مس کنڈکٹ تصور کیا جائے گا۔ مزید برآں اگر کوئی افسر جان بوجھ کر غلط معلومات فراہم کرے یا حقائق پوشیدہ رکھے تو اس کے خلاف محکمانہ کارروائی کے علاوہ ملازمت کے خاتمے تک کی سزا دی جا سکتی ہے اور اس اقدام سے یہ واضح پیغام دیا گیا ہے کہ ریاستی معاملات میں دیانت داری اور شفافیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
ماہرین کے مطابق دنیا کے کئی ممالک میں حساس سرکاری عہدوں پر تعینات افراد کے لیے غیر ملکی وابستگیوں کا اعلان کرنا ایک معمول کی قانونی ضرورت ہے جس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہوتا ہے کہ قومی سلامتی، پالیسی سازی اور انتظامی امور میں کسی قسم کے بیرونی اثر و رسوخ یا مفادات کے تصادم کا خطرہ نہ رہے اور پاکستان میں بھی ان قواعد کے نفاذ سے سرکاری اداروں پر عوامی اعتماد میں اضافہ متوقع ہے۔ دوسری جانب بعض حلقوں کا خیال ہے کہ دہری شہریت رکھنے والے پاکستانیوں نے دنیا بھر میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے اور ان میں سے بہت سے افراد ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں اس لیے ضروری ہے کہ ان قواعد کا مقصد کسی فرد کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ صرف معلومات کی درست فراہمی اور شفافیت کو یقینی بنانا ہونا چاہیے تاکہ اگر کوئی افسر اپنی تمام معلومات قانون کے مطابق ظاہر کرتا ہے تو اس کے ساتھ مساوی اور منصفانہ سلوک کیا جائے۔
حکومت کا یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سرکاری اداروں میں احتساب اور بہتر طرز حکمرانی کے مطالبات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے کیونکہ شفاف اور جوابدہ بیوروکریسی کسی بھی ریاست کی مؤثر حکمرانی کی بنیاد سمجھی جاتی ہے۔ اگر ان قواعد پر مؤثر انداز میں عملدرآمد کیا گیا تو یہ نہ صرف انتظامی نظام کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوں گے بلکہ عوام کے اعتماد کو بھی بحال کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔ مجموعی طور پر سول سرونٹس ڈسکلوزر اینڈ ریگولیشن آف فارن نیشنلٹی رولز 2026 پاکستان کی سول بیوروکریسی میں شفافیت اور احتساب کے فروغ کی جانب ایک سنگ میل ہیں اور اب اصل چیلنج ان قوانین پر منصفانہ، غیر جانبدارانہ اور مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنانا ہوگا تاکہ ان کے مطلوبہ نتائج حاصل کیے جا سکیں۔













