بھارت علاقائی عدم استحکام کا ذمہ دار!!!

0
10

پاکستان نے بھارتی وزیرِ خارجہ جے شنکر کے حالیہ غیر ذمہ دارانہ اور بے بنیاد الزامات کو جس دوٹوک انداز میں مسترد کیا ہے، وہ خطے میں پھیلائی گئی اس گرد آلود فضا کو صاف کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے جو برسوں سے دانستہ طور پر قائم رکھی گئی ہے۔ بھارت جب بھی داخلی دباو، مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں یا علاقائی سطح پر اپنی ناکام پالیسیوں کا سامنا کرتا ہے تو الزام تراشی کی توپوں کا رخ پاکستان کی طرف موڑ دیتا ہے۔ یہ ایک آزمودہ مگر فرسودہ حکمتِ عملی ہے، جس کا مقصد نہ امن ہے اور نہ ہی سچ، بلکہ صرف توجہ ہٹانا اور بیانیہ قابو میں رکھنا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ خطے میں دہشت گردی اور عدم استحکام کے فروغ میں بھارت کے کردار پر اب صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ متعدد عالمی حلقے بھی سوال اٹھا رہے ہیں۔ بھارتی خفیہ اداروں کی جانب سے پڑوسی ممالک میں مداخلت، علیحدگی پسند عناصر کی پشت پناہی اور ریاستی سطح پر تخریبی سرگرمیوں کے شواہد کسی قیاس آرائی کا نتیجہ نہیں بلکہ ٹھوس دستاویزات اور اعترافات پر مبنی ہیں۔ کلبھوشن یادیو کا معاملہ اس سلسلے کی سب سے نمایاں اور ناقابلِ تردید مثال ہے، جس میں ایک حاضر سروس بھارتی نیوی افسر نے پاکستان کے اندر دہشت گردی اور تخریب کاری میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا۔ اس ایک کیس نے بھارت کے اس دعوے کو زمین بوس کر دیا کہ وہ خود دہشت گردی کا شکار ہے اور اس کے خلاف صفِ اول میں کھڑا ہے۔ پاکستان کی یہ پوزیشن ہمیشہ واضح رہی ہے کہ دہشت گردی کسی ایک ملک یا قوم کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک عالمی چیلنج ہے، جس سے نمٹنے کے لیے الزام تراشی نہیں بلکہ مشترکہ سنجیدہ کاوشوں کی ضرورت ہے۔ بدقسمتی سے بھارت نے اس راستے کا انتخاب نہیں کیا۔ اس نے نہ صرف پاکستان کے ساتھ بامعنی مذاکرات کے دروازے بند رکھے بلکہ ہر بین الاقوامی فورم کو سیاسی پوائنٹ سکورنگ کے لیے استعمال کیا۔ جے شنکر کے بیانات اسی سلسلے کی ایک کڑی ہیں، جن میں حقائق کو مسخ کر کے ایک خود ساختہ مظلومیت کا تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ دوسری جانب، پاکستان نے اپنی پالیسیوں اور اقدامات کے ذریعے بارہا ثابت کیا ہے کہ وہ خطے میں امن و استحکام کا خواہاں ہے۔ دہشت گردی کے خلاف قربانیاں ہوں یا عالمی معاہدوں کی پاسداری، پاکستان کا ریکارڈ کسی بھی غیر جانبدار تجزیے کا متحمل ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارت کی جانب سے لگائے گئے الزامات عالمی سطح پر وہ پذیرائی حاصل نہیں کر پاتے جن کی امید نئی دہلی کو ہوتی ہے۔ دنیا اب محض بیانات نہیں بلکہ شواہد مانگتی ہے اور شواہد کے میدان میں بھارت کا دامن خاصا خالی نظر آتا ہے۔ سندھ طاس معاہدہ اس پورے تناظر میں ایک اور اہم پہلو کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ معاہدہ صرف دو ممالک کے درمیان پانی کی تقسیم کی ایک قانونی دستاویز نہیں بلکہ جنوبی ایشیا میں تعاون اور باہمی اعتماد کی ایک علامت بھی ہے۔ بھارت کی جانب سے اس معاہدے کو یکطرفہ طور پر ختم کرنے یا اس کے تحت پاکستان کے جائز حقوق کو چیلنج کرنے کی کوششیں نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں بلکہ خطے میں کشیدگی کو بڑھانے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہیں۔ پاکستان کا یہ اعلان کہ وہ سندھ طاس معاہدے کے تحت اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گا، کسی جارحیت کا اظہار نہیں بلکہ ایک ذمہ دار ریاست کا وہ موقف ہے جو اپنے عوام کے مفادات پر سمجھوتہ نہیں کر سکتی۔ یہاں یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ پانی جیسے حساس مسئلے کو سیاسی تنازعات کی نذر کرنا کس قدر خطرناک ہو سکتا ہے۔ جنوبی ایشیا پہلے ہی ماحولیاتی تبدیلیوں، آبادی کے دباو اور وسائل کی کمی جیسے چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے میں اگر بھارت پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی سوچ رکھتا ہے تو اس کے اثرات صرف پاکستان تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورے خطے کے لیے عدم استحکام کا باعث بن سکتے ہیں۔ پاکستان نے ہمیشہ اس مسئلے کو بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کے دائرے میں رہ کر حل کرنے پر زور دیا ہے اور یہی طرزِ عمل ایک ذمہ دار ریاست کو زیب دیتا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ بھارت کب تک الزام تراشی کے اس شور میں اپنے ہی اعمال سے توجہ ہٹانے کی کوشش کرتا رہے گا؟ مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی پامالی، سیاسی قیادت کی گرفتاریوں اور آبادی کے تناسب کو بدلنے کی کوششوں پر عالمی تنقید بڑھ رہی ہے۔ ایسے میں پاکستان کو موردِ الزام ٹھہرانا وقتی طور پر شاید داخلی سامعین کو مطمئن کر دے، مگر عالمی ضمیر کو زیادہ دیر تک دھوکا نہیں دیا جا سکتا۔پاکستان کے لیے اس صورتحال میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ اپنے مفادات کے قریب رہتے ہوئے، ٹھہراو اور اعتماد کے ساتھ اپنا موقف پیش کرتا رہے۔ دفترِ خارجہ کا حالیہ بیان اسی تسلسل کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ پیغام واضح ہے کہ پاکستان نہ تو بے بنیاد الزامات سے مرعوب ہوگا اور نہ ہی اپنے جائز حقوق سے دستبردار۔ خطے میں امن کا راستہ الزام تراشی سے نہیں بلکہ سچائی، ذمہ داری اور باہمی احترام سے ہو کر گزرتا ہے۔ اب یہ بھارت پر منحصر ہے کہ وہ اس راستے کا انتخاب کرتا ہے یا ماضی کی ناکام حکمتِ عملیوں کے بوجھ تلے خود کو مزید تنہا کرتا چلا جاتا ہے۔
٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here