سال نو کا عزم کچھ ایسا!!!

0
7
حیدر علی
حیدر علی

میں اپنی دِلی خواہش کو چھپا نہ سکا، اِسلئے جب میرے ایک دوست نے یہ پوچھا کہ سال نو کا میرا کیا عزم ہے تو میں نے بلا جھجک یہ جواب دے دیا کہ میں کروز پر جانا چاہتا ہوں ، میں ابھی فورا”جانا چاہتا ہوں، اِسی ماہ ، میں موسم بہار یا گرما کا انتظار نہیں کرسکتا ہوں اور میں اپنی بیوی کے ساتھ نہیں بلکہ کسی اور خوبصورت خاتون کے ساتھ ، جس کے دلگداز بدن کو میں دیکھتا ہی رہوں، جس کی نیم باز آنکھیں میرا تعاقب کرتی رہیں جو جب مجھے یہ کہے کہ ”ذرا سنئیے تو ” تو آسمان سے برکھا برس پڑے اور جب وہ میرے بغل میں آکر لیٹے تو میں یہ قیاس کرنے لگوں کہ مجھے جنت نصیب ہوگئی ہے اور جب میں اُس کے سوئم سوٹ بکنی کو سوئمنگ پول میں پہناؤں تو وہ میری چھاتی سے چپک پڑے ، اور اُس کے بدن کی لمس سوئمنگ پول کے گرم پانی کو مات کردے،جب میں اُسے لے کر ڈائننگ ہال میں جاؤں تو اچانک ساری نگاہیں ہماری جانب مبذول ہوجائیں ، ہر کوئی یہ سوچنے لگے کہ ہم انسان ہیں یا ہنسوں کاجوڑا۔میرے دوست نے ذرا توقف سے مجھ سے پوچھا کہ ” تو پھر تمہیں مال بنانے سے اب کوئی دلچسپی نہیں، پہلے تو تم صرف بزنس پیج لئے ورق گردانی کیا کرتے تھے اور چیخ کر کہا کرتے تھے کہ سٹی بینک کے شیئرز کو ڈھیر ہونا ہی ، کیونکہ وہ بہت اوپر چلا گیا ہے” ” خیر میرا چھوڑو، اپنی بتاؤ کہ کیا اب تک تم گوریوں کی ٹانگوں کا پیچھا کرتے رہتے ہو یا توبہ کر لیا ہے””نہیں یار ! امریکا میں ایسا کیسے ممکن ہے ، گوری ٹانگیں نہ ہو ںتو امریکا کی معیشت ڈانوا ںڈول ہوجائیگی، اِسی لئے تو سال نو پر میں نے اپنے پورٹ فولیو میں گوری ٹانگوں کا تیس فیصد اضافہ کرنے کا عزم کر لیا ہے جہاں بھی وہ نظر آتی ہے ، میں اُسے ہائے کہنے سے باز نہیں آتا، جیسے وہ مسکراکر جواب دیتی ہے تو میں اچھل کر اُس کے پاس پہنچ جاتا ہوں اور استفسار کرتا ہوں کہ میں نے تم کو اِس سے قبل بھی دیکھا ہے، شاید تم اِسی علاقے میں ملازمت کرتی ہو؟ کیا بہتر ہوگا کہ میں تمہیں اسٹار بکس کی کافی خرید دوں؟وہ اگر جواب دیتی ہے کہ یہ ایک معقول پیشکش ہے تو ہم دونوں فورا”اسٹار بکس کی جانب پیش قدمی شروع کردیتے ہیں ، اور میں سمجھتا ہوں کہ میرا کام ہوگیا ہے لیکن ایک مرتبہ یقینا ایک خاتون نے جواب دیا تھا کہ وہ ڈیوٹی پر ہے ، اور پولیس کی جاسوس ہے ، اِس لئے شکریہ .میری تو ہوا بند ہوکر رہ گئی تھی.”لیکن میرے ایک دوسرے دوست کے سال نو کا عزم پھر شادی کرنا ہے، وہ ہر سال ایک نئی شادی کرتے ہیں ، بلکہ دو لہٰذا جب میں نے اُن سے پوچھا کہ کیا تم پھر شادی کرنے کا ارادہ رکھتے ہو تو اُس نے جواب دیا کہ ایک دم، میں نے پوچھا کہ آخر کیوں ، تم کیوں اُس واردات کو بھول گئے ہو جب تم بارات لے کر ایک جگہ شادی کیلئے گئے تھے تو وہاں لڑکیوں کے بھائیوں اور رشتہ داروں نے تمہاری دھلائی کردی تھی اور جوتیاں لگا لگا کر تم سے پوچھ رہے تھے کہ تم نے اُس لڑکی سے شادی کی تھی اُسکا کیا بنا؟ تم نے فلاں لڑکی سے شادی کی تھی اُسے کیوں چھوڑ دیا، تم نے وہ سارا ماجرا رو رو کر مجھے سنایا تھا۔میرے دوست نے جواب دیا کہ اِس دفعہ وہ کسی اور شہر میں جاکر شادی کرے گا اور لڑکی کے بھائیوں کو میکڈونالڈ کا فرنچائیز کھولنے کا وعدہ بھی کردے گا، اُس نے کہا کہ یہی ہے اُس کے سال نو کا عزم اور ہر سال اُس میں کچھ تبدیلی کرکے جوتیاں کھا تا رہتا ہے لیکن ہمارے ایک قریبی جاننے والے جو ایک پائے کے شاعر و ادیب بھی ہیں اُن کے ہر سال نو کاعزم کچھ نہ کچھ پھڈے کی وجہ کر پائے تکمیل کو پہنچنے سے قبل ہی التوا کا شکار ہوجاتا ہے،پہلے سال نو کے عزم میں اُنہوں نے یہ پکا ارادہ کرلیا تھا کہ وہ اپنے افسانوں کا مجموعہ شائع کروائینگے، اُنہوں نے ایک بھاری رقم کے ساتھ اپنی کتاب کے مسودے کو پاکستان بھیجوادیا تھا لیکن چھ ماہ بعد بھی اُس کا کچھ اتا پتا نہ تھا، انتہائی کوشش کے بعد اُنکا پرنٹر سے رابطہ ہوا جس نے اُنہیں یہ بتایا کہ اُن کے کتاب کے مسودے کو پولیس پریس پر چھاپے کے دوران اپنے ساتھ لے گئی اور عذر یہ پیش کیا کہ غیر ملک میں پاکستانی حکومت کے خلاف اناٹ شناٹ بکواس کرتے رہتے ہیں جس سے ملک کی جڑ کمزور ہوجاتی ہے، اِسلئے پولیس نے حکومت کی ایما پر یہ اقدام اٹھایا ہے، پولیس نے اُنہیں یہ مشورہ دیا کہ اپنی کتاب شائع کرانے سے قبل اُس کے مسودے کو وزیراعظم ہاؤس سے یہ تصدیق کروالیں کہ اُس میں حکومت کے خلاف کوئی مواد تو نہیںہے، میرے دوست نے یہ مطالبہ کیا کہ ٹھیک ہے تو اُن کی رقم واپس کردی جائے لیکن پریس کے مالک نے یہ انکشاف کیا کہ رقم خرچ ہوچکی ہے ، البتہ دوسری کتاب شائع کراتے وقت اُنہیں تشفی بخش ڈسکاؤنٹ دے دینگے، میری ایک خاتون دوست جو ہمیشہ مجھے کال کرکے یہ ترغیب دیتی رہتی ہیں کہ میں اُن کے بتائے ہوئے اسٹاک کو فورا” خرید لوں ، کیونکہ اُس کی قیمت چند دنوں میں آسمان سے باتیں کرنے لگیں گی، میں اُنہیں جواب دیتا ہوں کہ برائے مہربانی وہ خود خرید لیں اور ملینئر بن جائیں، وہ کہتی ہیں کہ پھر دوستی کا کیا فائدہ ؟ بقول اُنکے ہم دونوں کے مابین دوستی کا یہ معاہدہ ہوا تھا کہ وہ جو بھی مشورہ مجھے دینگیں میں اُس پر عمل کرونگا لیکن اُس معاہدے کا پس منظر یہ تھا کہ اگر میں اُنہیں یہ کہوں گا کہ چلو کروز پر ایک ہفتے کیلئے چلتے ہیں ، معاہدے کے دوسرے شق میں یہ تھا کہ وہ میرے ساتھ تیراکی کیلئے بِیچ پر جائیںگی لیکن اُنہوں نے کبھی بھی اپنے وعدے کا ایفا نہیں کیا، اور صرف یہ رٹ لگاتی رہتی ہیں کہ میں اسٹاک خرید لوں، میںگولڈ خرید لوں، یہ دوستی ہے یا بزنس؟

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here