نیویارک (پاکستان نیوز)بروکلین کی وفاقی عدالت میں پاکستانی نژاد شہری آصف مرچنٹ کے خلاف ایک اعلیٰ امریکی سیاست دان، جن میں مبینہ طور پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی شامل تھے، کو قتل کرنے کی سازش کے الزامات کے تحت باقاعدہ ٹرائل کا آغاز ہو گیا ہے۔ فروری 2026 کے آخری ہفتے میں شروع ہونے والی اس عدالتی کارروائی کے دوران استغاثہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ 47 سالہ آصف مرچنٹ نے جون 2024 میں مبینہ طور پر کرائے کے قاتلوں سے ملاقات کی، جو درحقیقت وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف بی آئی) کے انڈر کور ایجنٹ تھے۔ استغاثہ کے مطابق مرچنٹ نے ایک ہوٹل کے کمرے میں نیپکن اور ڈسپوزایبل ویپ جیسی عام اشیاء کا استعمال کرتے ہوئے ایک نقشہ تیار کیا تھا جس میں سیاسی ریلی کے دوران فائرنگ کرنے اور پھر ہجوم میں احتجاج کے ذریعے توجہ ہٹا کر فرار ہونے کا منصوبہ سمجھایا گیا تھا۔ عدالت میں پیش کیے گئے شواہد کے مطابق ملزم نے انڈر کور ایجنٹوں کو 5,000 ڈالر ایڈوانس رقم بھی ادا کی تھی تاکہ وہ اس کام کی تیاری کر سکیں۔ آصف مرچنٹ نے دہشت گردی اور کرائے پر قتل کی کوشش کے الزامات سے انکار کرتے ہوئے صحتِ جرم سے انکار کیا ہے۔ ان کے وکلاء صفائی کا کہنا ہے کہ ان کے موکل ایک مذہبی اور کاروباری انسان ہیں اور حکومت کے پاس ان کے خلاف کسی ٹھوس اور حتمی منصوبے کا کوئی حقیقی ثبوت موجود نہیں ہے۔ یاد رہے کہ آصف مرچنٹ کو جولائی 2024 میں اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ امریکہ سے روانہ ہونے کی کوشش کر رہے تھے، اور یہ گرفتاری پنسلوانیا میں ڈونلڈ ٹرمپ پر ہونیوالے قاتلانہ حملے سے محض ایک روز قبل عمل میں آئی تھی، تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ مرچنٹ کا مبینہ منصوبہ اس حملے سے بالکل الگ اور مختلف تھا۔نیویارک کی وفاقی عدالت میں جاری ٹرائل کے دوران استغاثہ نے دعویٰ کیا ہے کہ آصف مرچنٹ کا مبینہ منصوبہ دراصل 2020 میں ایرانی کمانڈر قاسم سلیمانی کے قتل کا بدلہ لینے کی ایک کڑی تھا۔ عدالت کو بتایا گیا کہ مرچنٹ نے اپریل 2024 میں پاکستان سے امریکہ پہنچنے سے پہلے ایران میں وقت گزارا تھا، جہاں مبینہ طور پر ان کی ملاقات ‘مہر داد یوسف’ نامی ایک ہینڈلر سے ہوئی تھی جس کا تعلق ایرانی پاسدارانِ انقلاب سے بتایا جاتا ہے۔ استغاثہ کے مطابق مرچنٹ کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ امریکہ میں ایسے افراد تلاش کریں جو چوری، احتجاج کی آڑ میں ہنگامہ آرائی اور قتل جیسے کام سرانجام دے سکیں۔ ٹرائل کے پہلے گواہ، ندیم علی (جو ایک سابق امریکی فوجی مترجم ہیں اور فرضی نام سے گواہی دے رہے ہیں)، نے عدالت کو بتایا کہ مرچنٹ نے ان سے رابطہ کر کے ‘ہٹ مین’ (کرائے کے قاتل) فراہم کرنے کا مطالبہ کیا تھا، جس کے بعد ندیم نے ایف بی آئی کو مطلع کر دیا۔ عدالت میں دکھائی گئی ایک خفیہ ویڈیو میں آصف مرچنٹ کو ایک ہوٹل کے کمرے میں نیپکن پر نقشہ بناتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جہاں انہوں نے ایک ویپ پین کو میز پر رکھ کر اسے ‘ٹارگٹ’ قرار دیا اور پوچھا کہ “یہ کیسے مرے گا؟”۔ استغاثہ نے یہ بھی انکشاف کیا کہ مرچنٹ نے انڈر کور ایجنٹوں سے بات کرتے ہوئے ‘یارن ڈائیڈ’ جیسے کوڈ ورڈز استعمال کیے تاکہ اپنے کپڑوں کے کاروبار کی آڑ میں قتل کی سازش کو چھپا سکیں۔ مزید برآں، یہ بات بھی سامنے آئی کہ انہوں نے مبینہ قاتلوں کو 5,000 ڈالر کی رقم بیرونِ ملک سے منگوا کر ادا کی تھی۔ اگرچہ دفاعی وکلاء کا اصرار ہے کہ مرچنٹ صرف ایک تاجر ہیں جنہیں پھنسایا گیا ہے، لیکن ایف بی آئی کے مطابق ملزم کے لیپ ٹاپ سے ایسی سرچ ہسٹری ملی ہے جس میں ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی ریلیوں کے مقامات اور سیکیورٹی کی تفصیلات تلاش کی گئی تھیں۔












