عصر حاضر میں مشرق وسطیٰ کی سیاست جس نہج پر پہنچ چکی ہے وہ نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک سنگین لمحہ فکر ہے۔ تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اجارہ دار قوتوں نے ہمیشہ سے اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے کمزور اقوام کو تختہ مشق بنایا ہے۔ حالیہ دنوں میں ایران کے اندر قیادت کی تبدیلی اور تزویراتی اقدامات نے عالمی ایوانوں میں ایک نئی ہلچل پیدا کر دی ہے۔ ایران کے نئے پیشوا کا انتخاب ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب سرحدوں پر بارود کی بو پھیلی ہوئی ہے اور بین الاقوامی سازشی عناصر اپنی بساط بچھائے بیٹھے ہیں۔ یہ محض ایک اتفاق نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے دہائیوں پرانی وہ منصوبہ بندی کارفرما ہے جس کا مقصد اسلامی دنیا کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنا اور مخصوص ریاستوں کو بے دست و پا کر دینا ہے۔ اگر ہم ماضی کے دریچوں سے جھانکیں تو تیس سال قبل تیار کردہ وہ دستاویزات آج بھی حقیقت کا روپ دھار رہی ہیں جن میں سات مسلم ممالک کی اینٹ سے اینٹ بجانے کا عزم ظاہر کیا گیا تھا۔ ان ممالک کی فہرست میں عراق اور شام کے بعد اب لبنان اور ایران کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ سب کچھ ایک ایسے عالمی نظام کی تشکیل کے لیے کیا جا رہا ہے جہاں صرف ایک ہی قوت کی بالادستی قائم رہے اور دیگر تمام اقوام اس کے سامنے سرنگوں ہو جائیں۔ عراق کو لسانی اور فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم کرنے کے بعد اب یہی نسخہ دیگر ممالک پر آزمانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ لبنان میں جاری حالیہ کشیدگی اور وہاں کی مزاحمتی قوتوں کو کمزور کرنے کی کوششیں دراصل اسی سلسلے کی ایک کڑی ہیں جس کا مقصد غاصب قوتوں کے لیے راستہ صاف کرنا ہے۔ایران کی جانب سے ایٹمی صلاحیت کے حصول کی خبریں اور اس پر عالمی طاقتوں کا واویلا ایک ایسا حربہ ہے جسے ہمیشہ سے دباؤ بڑھانے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ طاقتور ممالک خود تو مہلک ہتھیاروں کے انبار لگائے بیٹھے ہیں لیکن کسی دوسری قوم کے دفاعی استحکام کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اس ساری صورتحال میں روس کا کردار بھی انتہائی اہمیت کا حامل ہو چکا ہے۔ اگرچہ وہ بظاہر براہ راست میدان جنگ میں موجود نہیں ہے لیکن پس پردہ اس کی تائید اور تکنیکی معاونت نے کھیل کے رنگ بدل دئیے ہیں۔ روس کی جانب سے فراہم کردہ معلومات اور خفیہ اطلاعات نے ایران کو اس قابل بنا دیا ہے کہ وہ دشمن کی نقل و حرکت پر گہری نظر رکھ سکے۔ یہ صورتحال عالمی سیاست میں ایک نئے بلاک کی تشکیل کی جانب اشارہ کر رہی ہے جہاں مفادات کی جنگ نے پرانے حلیفوں کو حریف اور نئے ساتھیوں کو ایک دوسرے کے قریب کر دیا ہے۔ دوسری جانب ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے اندرونی حالات اور وہاں کی سیاسی قیادت کے بیانات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ وہ کسی بھی قیمت پر اپنی بالادستی برقرار رکھنے کے لیے پر تول رہے ہیں۔ وہ ریاستیں جو کبھی امن کی علمبردار کہلاتی تھیں اب کھلم کھلا جنگ کی دھمکیاں دے رہی ہیں اور ایٹمی حملوں جیسے خوفناک خیالات کی ترویج کر رہی ہیں۔ یہ انسانیت کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ ہے کیونکہ ایک چھوٹی سی غلطی پوری دنیا کو ایسی آگ میں دھکیل سکتی ہے جس سے بچنا کسی کے لیے ممکن نہیں ہوگا۔جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو اسے ہمیشہ سے ایسی نازک صورتحال میں گھسیٹنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ بین الاقوامی تجزیہ کاروں کی جانب سے یہ دعوے کرنا کہ پاکستان کی زمین کسی پڑوسی اسلامی ملک کیخلاف استعمال ہوگی محض ایک خام خیالی اور فتنہ پروری کے سوا کچھ نہیں ہے۔ پاکستان کے عوام کے دل اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں اور تاریخ گواہ ہے کہ اس قوم نے ہمیشہ مشکل وقت میں اپنے بہن بھائیوں کا ساتھ دیا ہے۔ کسی بھی قسم کا فوجی اتحاد یا دفاعی معاہدہ کسی دوسرے اسلامی ملک کے خلاف استعمال ہونا ناممکن ہے کیونکہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کے بنیادی اصولوں میں اسلامی اخوت اور علاقائی استحکام کو اولیت حاصل ہے۔ دشمن قوتیں چاہتی ہیں کہ مسلمانوں کے درمیان خلیج پیدا کی جائے اور انہیں آپس میں لڑوا کر اپنے مذموم مقاصد حاصل کیے جائیں۔ اس کے لیے ذرائع ابلاغ کا سہارا لیا جا رہا ہے اور جھوٹی خبریں پھیلا کر ہیجان پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ جنگ صرف زمین یا تیل کی نہیں ہے بلکہ یہ نظریات اور بقا کی جنگ ہے۔ قدیم مذہبی پیشگوئیوں کو بنیاد بنا کر جس طرح عالمی سیاست کی بساط بچھائی جا رہی ہے وہ ظاہر کرتی ہے کہ کچھ قوتیں خود کو خدا سمجھ بیٹھی ہیں اور انسانی جانوں کی قیمت پر اپنے خوابوں کی تعبیر چاہتی ہیں۔مشرق وسطیٰ کے نقشے کو نئے سرے سے ترتیب دینے کا عمل انتہائی تیزی سے جاری ہے۔ شام کی تباہی اور وہاں کی دربدر انسانیت اس بربریت کی زندہ مثال ہے جو عالمی طاقتوں کی ہوس کا نتیجہ ہے۔ اب لبنان کو اسی نہج پر لانے کی تیاریاں مکمل کی جا چکی ہیں۔ حزب اللہ جیسی مزاحمتی تحریکوں کو کمزور کر کے دراصل پورے خطے کے دفاع کو اپاہج بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ جب کسی ملک کا دفاعی حصار ٹوٹ جاتا ہے تو وہ دشمن کے لیے ایک تر نوالہ بن جاتا ہے۔ یہی وہ منصوبہ ہے جس پر دہائیوں سے کام ہو رہا ہے۔ اس منصوبے کے تحت مسلمان ممالک کو چھوٹی چھوٹی کمزور ریاستوں میں تقسیم کر دینا مقصود ہے تاکہ ان کی اجتماعی آواز ختم ہو جائے اور وہ کبھی بھی عالمی سطح پر کوئی فیصلہ کن کردار ادا نہ کر سکیں۔ اس مقصد کے لیے اندرونی خلفشار پیدا کیا جاتا ہے اور پھر امن کے نام پر مداخلت کر کے وہاں کی خود مختاری کو سلب کر لیا جاتا ہے۔ آج ایران اسی آزمائش سے گزر رہا ہے۔ اس پر معاشی پابندیاں لگا کر اس کے عوام کو فاقہ کشی پر مجبور کرنے کی کوشش کی گئی لیکن وہاں کی قوم نے ثابت کیا کہ وہ اپنے نظریات پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔اس پورے منظر نامے میں ایک اور اہم پہلو عالمی سرمایہ دارانہ نظام اور اس کے پیچھے چھپے وہ مخصوص گروہ ہیں جو جنگوں کے ذریعے اپنی دولت میں اضافہ کرتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے انسانی جانوں کی کوئی اہمیت نہیں ہے اور جو صرف اپنے منافع کے لیے ملکوں کے ملک تباہ کر دیتے ہیں۔ ان گروہوں نے بڑی بڑی کمپنیوں اور ذرائع ابلاغ پر قبضہ کر رکھا ہے جس کے ذریعے وہ رائے عامہ کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھالتے ہیں۔ وہ ظالم کو مظلوم اور مظلوم کو ظالم بنا کر پیش کرنے کا فن جانتے ہیں۔ اسی لیے ہمیں خبروں کے سیلاب میں سچائی کو تلاش کرنا ہوگا۔ جو کچھ پردے پر نظر آتا ہے حقیقت اس سے کہیں مختلف ہوتی ہے۔ مشرق وسطیٰ کی یہ جنگ دراصل ان طاقتوں کے خلاف ہے جو پوری دنیا کو اپنا غلام بنانا چاہتی ہیں۔ اگر آج ہم نے خاموشی اختیار کی اور متحد نہ ہوئے تو آنے والا وقت ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گا۔ تاریخ ہمیشہ ان لوگوں کو یاد رکھتی ہے جو باطل کے سامنے سینہ سپر ہو جاتے ہیں اور حق کا ساتھ دیتے ہیں۔
٭٭٭














