کتاب پوش تھر یعنی شاخِ گل کی ورق گردانی کے دوران جب پونچھ کے عظیم استاد، قادر الکلام شاعر اور دانشور جناب تحسین جعفری کی تصویر پر نظر پڑی تو ماضی کے کئی دریچے وا ہو گئے۔ یہ دیکھ کر خوشگوار حیرت ہوئی کہ جس خطہ پونچھ میں آج کشمیری بولنے والوں کی تعداد مسلسل کم ہو رہی ہے، وہاں ایک صدی قبل کشمیری زبان و ادب کی آبیاری کرنے والے قد آور تخلیق کار موجود تھے۔ ذاکر ملک بھلیسی نے اپنی تحریر ماضی کی بات میں ان کا جو تعارف پیش کیا ہے وہ ہمیں اس عہد کے علمی و ادبی شعور سے روشناس کرواتا ہے۔ وقت کی گرد جب پرانی کتابوں کے اوراق سے جھڑتی ہے تو ایسے گہر ہائے نایاب سامنے آتے ہیں جو ہماری علمی تاریخ کا فخر ہیں اور تحسین جعفری کی یہ تصویر محض ایک عکس نہیں بلکہ اس تہذیبی وراثت کی علامت ہے جو کبھی پونچھ کے کوہ و دمن میں کشمیری اور اردو ادب کی صورت میں مہکتی تھی۔تحسین جعفری اردو کے ان بلند پایہ شعرا اور ادبا میں شامل ہیں جنہوں نے نہ صرف شاعری بلکہ صحافت اور تحقیق کے میدان میں بھی گراں قدر خدمات انجام دیں۔ ان کا اصل نام سرفراز حسین تھا اور وہ 2 جون 1908 کو منگناڑ پونچھ کے ایک علمی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ بچپن ہی سے ان کی طبیعت موزوں تھی اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کے کلام میں وہ پختگی آتی گئی جو ایک کہنہ مشق فنکار کا خاصہ ہوتی ہے۔ انہوں نے اردو کے ساتھ ساتھ اپنی مادری زبان کشمیری میں بھی گرانقدر ادبی سرمایہ تخلیق کیا جو ان کی اپنی مٹی سے محبت کا بین ثبوت ہے۔ ان کی شخصیت محض ایک شاعر تک محدود نہ تھی بلکہ وہ ایک ایسے محقق تھے جنہوں نے اپنے قلم سے معاشرے کی نبض پر ہاتھ رکھا اور منگناڑ کے اس سپوت نے بچپن سے ہی شعر و سخن کی جو شمع روشن کی تھی وہ تقسیم کے پر آشوب حالات میں بھی نہ بجھ سکی۔تقسیم کے وقت جب پونچھ کے جغرافیائی اور سیاسی حالات بدلے تو یہ خطہ بھی خونی لکیروں کی زد میں آگیا۔ ان ناسازگار حالات اور ہجرت کے کرب نے تحسین جعفری کو بھی اپنا آبائی وطن چھوڑنے پر مجبور کر دیا جس کے بعد وہ راولپنڈی میں سکونت پذیر ہو گئے۔ اگرچہ ہجرت کا دکھ انسان کو توڑ دیتا ہے مگر انہوں نے راولپنڈی کی اجنبی گلیوں میں بھی اپنے علمی سفر کو جاری رکھا اور اس بات کو ثابت کیا کہ تخلیق کار کا وطن اس کا فن ہوتا ہے۔ ان کی علمی وراثت ان کے فرزند ڈاکٹر مقصود جعفری کی صورت میں آج بھی پوری آب و تاب سے چمک رہی ہے جنہوں نے اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے عالمی سطح پر نام کمایا۔ ڈاکٹر مقصود جعفری جو انگریزی کے پروفیسر رہے ہیں، انہوں نے امریکہ سے فلسفہ اور انگریزی ادبیات میں اعلیٰ ڈگریاں حاصل کیں اور اردو، فارسی، کشمیری سمیت متعدد زبانوں میں پینتیس کتب تصنیف کیں۔ ان کے شاگردوں کی فہرست میں بڑے بڑے دانشور، جرنیل، وزرا اور یہاں تک کہ وزرائے اعظم بھی شامل رہے ہیں جو اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ تحسین جعفری نے صرف الفاظ نہیں بلکہ نسلوں کی آبیاری کی تھی۔ آج بھی پونچھ کی علمی فضائیں تحسین جعفری کے نام سے معطر ہیں اور ان کی ادبی خدمات کو انتہائی عقیدت و احترام سے یاد کیا جاتا ہے۔
٭٭٭












