بچوں کی پیدائش اورخاندان کی اہمیت!!!
اللہ تعالیٰ نے اس دنیا کا نظام ایسا بنایا ہے کہ جب تک یہ کارخانہ قدرت چلتا رہے گا، انسان یہاں سے رخصت ہوتے رہیں گے اور نوزائیدہ بچوں کی صورت میں نئے انسان اس دنیا میں قدم رکھتے رہیں گے۔ یہ معصوم بچے بذاتِ خود دنیا کی رونق کا باعث ہیں۔ موجودہ دور میں ان بچوں کی پیدائش اور پرورش والدین کے لیے متعدد مشکلات کا سبب بنتی ہے، جبکہ ماضی میں بچوں کی پیدائش کو خاندان میں برکت اور اضافے سے تعبیر کیا جاتا تھا۔ اس زمانے میں خاندان وسیع ہوتے تھے اور لوگ اس پر خوش رہتے تھے۔ بچے ایک دوسرے کے لباس اور جوتے استعمال کر لیتے تھے اور گھر میں جو کچھ بھی پکتا تھا، اسے خوشی سے کھا کر بڑے ہو جاتے تھے۔ والدین انہیں سرکاری مدارس میں تعلیم دلوا دیتے تھے اور گھر ہی میں ان کو پڑھا لکھا کر اسکول کے لیے تیار کر دیا جاتا تھا۔ اس عمل میں چچی، خالہ، پھوپھی یا خاندان کا کوئی نہ کوئی دوسرا فرد مدد کر دیتا تھا، جبکہ بڑے بہن بھائی اپنے سے چھوٹوں کو پڑھا دیا کرتے تھے۔ اس طرح زندگی کا پہیہ رواں دواں رہتا تھا۔ اگر کبھی والدین کو مالی تنگی کا سامنا ہوتا بھی تو خوشحال خاندانوں کو ایسا کوئی مسئلہ درپیش نہیں آتا تھا، اسی لیے لوگ خوشی خوشی درجن بھر بچے بھی پال لیتے تھے۔ بعد میں یہی بڑے بہن بھائی برسرِ روزگار ہو کر چھوٹوں کو سنبھالتے تھے اور چھوٹے بھی بڑے ہو کر ان کے بچوں کی پرورش میں ہاتھ بٹاتے تھے، جس کے نتیجے میں بچے سب کی محبتوں کے سائے میں ہنستے کھیلتے بڑے ہو جاتے تھے۔
مگر اب حالات یکسر بدل چکے ہیں۔ آج کے دور میں تین سے زیادہ بچوں کی موجودگی والدین کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے کہ ان کی پرورش کیسے کی جائے، ان کی تعلیم کے اخراجات کہاں سے پورے ہوں گے اور ان کی دیکھ بھال کون کرے گا۔ اگر مائیں ملازمت کرتی ہوں تو بچوں کی نگران خواتین کی خدمات حاصل کرنا انتہائی مہنگا عمل ہے۔ بچوں کی نگہداشت کے مراکز اور نجی مدارس کے اخراجات بھی بہت زیادہ ہیں، اور سب سے مشکل کام بچوں کی دیکھ بھال کے لیے کسی اچھّی ملازمہ کا انتخاب کرنا ہے کیونکہ اجتِماعی خاندانی نظام نہ ہونے کی وجہ سے اب گھر کا کوئی بڑا بزرگ بھی اس کام کے لیے فارغ نہیں ہوتا۔ دوسری طرف خالہ اور ماموں جیسے قریبی رشتہ دار خود اپنی تعلیم اور مصروفیات کے بوجھ تلے دبے ہوتے ہیں۔ ایسے حالات میں لوگ دن بدن یہ سوچنے پر مجبور ہو رہے ہیں کہ بچے صرف ایک یا دو ہی بہتر ہیں۔
لیکن اس کے برعکس امریکہ میں یہ دیکھ کر انتہائی حیرت اور مسرت ہوتی ہے کہ وہاں بے شمار نوجوان والدین ایک یا دو بچوں پر مطمئن نہیں ہیں، بلکہ وہ اپنے بچوں کے لیے زیادہ بہن بھائی چاہتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے وہ ہر طرح کے مالی اخراجات برداشت کر رہے ہیں، سخت محنت اور ملازمت کے ساتھ ساتھ گھر کو بھی سلیقے سے چلا رہے ہیں تاکہ بچے اپنے وقت کا درست استعمال سیکھ سکیں۔ وہاں مائیں اپنے بچوں کے لیے زیادہ سے زیادہ وقت نکالتی ہیں اور ان کی بہترین تربیت کر رہی ہیں۔ وہ بڑے بچوں کو اس طرح تیار کرتی ہیں کہ وہ اپنے سے چھوٹے بہن بھائیوں کا خیال رکھیں، اور چھوٹوں کو آداب سکھاتی ہیں تاکہ وہ بڑے بہن بھائیوں کے لیے پریشانی کا باعث نہ بنیں۔ امریکہ میں ایسے متعدد گھرانے موجود ہیں جو نہایت خوش اسلوبی سے ایک بڑے خاندان کی پرورش کر رہے ہیں۔ یہ نوجوان والدین مبارکباد کے مستحق ہیں جو نہ صرف ایک بڑے خاندان کو بہترین طریقے سے پروان چڑھا رہے ہیں بلکہ دوسروں کے لیے بھی حوصلہ افزائی کا باعث بن رہے ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی ہمت اور حوصلے بلند رکھے اور وہ ہمیشہ خاندانی نظام کی حقیقی اہمیت کو سمجھتے رہیں۔













