گھر کی آگ بجھائو!!!

0
6
جاوید رانا

گزشتہ کئی کالموں میں ہم وقت کے سنگین عالمی بحران ایران ، امریکہ و اسرائیل محاذ آرائی کیساتھ وطن عزیز کے سیاسی و پاکستان دشمن قوتوں کے سازشی ایجنڈے کے حوالے سے اپنی گذاراشات پیش کرتے اور حالات کی نزاکت پر ارباب حل و عقد کی توجہ اور اقدامات کی درخواست کرتے رہے ہیں لیکن ہماری گذارش شاید صدا بصحرا ہی ثابت ہوئی ہے۔ ارباب اختیار اپنے گھر کی خبر رکھنے کے برعکس بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ بنے ہوئے ہیں کہ امریکہ ایران تنازعے میں ثالثی کا کردار ادا کر کے سرخروئی حاصل کی جائے، گزشتہ ہفتہ وزیر داخلہ کا ایران کا تیسرا دورہ بھی اسی سلسلے کی کڑی تھا لیکن کچھ حاصل نہ حصول۔ متذکرہ تنازعہ 100 دن کے بعد بھی حل ہونے کا کوئی امکان نظر نہیں آتا، اسرائیل کی ہٹ دھرمی، ٹرمپ کے متضاد مؤقف اور ایران کے جوابی وار اس حقیقت کا مظہر ہیں کہ امن و معاہدے کی کوششیں ہنوز دلی دور است کے مترادف ہیں۔
افسوس یہ ہے کہ دوسروں کی آگ پر پانی ڈالنے کی کوششیں کرنے والے وزیر داخلہ اور محافظین وطن اپنے گھر کی آگ سے بے خبری میں کیوں ہیں۔ آزاد کشمیر میں گزشتہ ایک برس سے عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کی دشمنانہ سرگرمیاں اور بھارتی حکومت و را کی سپورٹ ایک آگ ہی تو ہے جو پاکستان کے 78 سالہ مؤقف استصواب رائے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی نفی ہے جبکہ بھارت کے غاصبانہ قبضے اور مقبوضہ جموں و کشمیری مظلوم عوام پر ظلم و بربریت اور قتال کی حمایت کا اظہار کے سواء کچھ نہیں۔ بانیٔ پاکستان قائد اعظم کے فرمان اور اپنی فطری و جغرافیائی نیز مسلم اکثریت کے سبب کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور ازلی دشمن بھارت شہ رگ کو کاٹنے کے ناپاک مقصد پر روز اول سے عمل پیرا ہے اور ہر طرح کے ہتھکنڈے آزماتا رہا ہے، لاکھوں کشمیریوں کے قتل عام، مضروبیت اور ہجرت کیساتھ کیپٹن سرور شہید سے کرنل شیر خان تک فرزندان پاکستان کی شہادتیں اور آزاد کشمیر کا قیام اس بات کی گواہی ہیں کہ کشمیر پاکستان ہے۔ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا وجود میں آنا بھی بھارت کے ایجنڈے کا وہ حصہ ہے جس کے تحت آزاد کشمیر میں شورش برپا کر کے یہ واضح کیا جائے کہ کشمیری عوام پاکستان سے الحاق کیلئے راضی نہیں۔ سوال یہ ہے کہ ہمارے ریاستی و سیاسی قائدین بھارت کے اس منصوبے کو سمجھ نہیں رہے یا اس سوچ پر مطمئن ہیں کہ زور زبردستی سے اس ٹولے کو دبا لیں گے، سچ تو یہ ہے کہ ٹی ٹی پی، بی ایل اے کی طرح ہے، یہ بھی بھارت کی پراکسی اور مالی و حربی طریقوں سے فیضیاب ہو رہے ہیں اور بھارتی منصوبہ پر عمل پیرا ہیں۔
گزشتہ برس سے اب تک وزیراعظم آزاد کشمیر کے مطابق مذاکرات اور بیشتر مطالبات پر اتفاق رائے کے باوجود محض مہاجرین کی 12 نشستوں کے ایشو پر ایکشن کمیٹی نے حالات میں بگاڑ اس حد تک کر دیا کہ راولا کوٹ میں سی ایم ایچ پر حملے کیساتھ قانون نافذ کرنے والے افراد کی ہلاکتوں اور مضروبیت تک نوبت پہنچی۔ ان حالات کے سبب ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دیدیا گیا ہے، اس کے بھارت سے نیکسس کے ثبوت بھی حاصل کر لئے گئے لیکن کیا اس طرح شورش کی یہ آگ بجھائی جا سکے گی؟ ہم نے گزشتہ سطور کے حوالے سے جو عرض کیا ہے بالخصوص آزاد کمشیر کے قیام اور اکناف عالم میں کشمیر پر ہمارے مؤقف کے ناطے تو اس فتنے کو دبانے کیلئے ایسا رویہ اختیار کرنا ہوگا کہ یہ شورش بھی ختم ہو اور کشمیر پر ہمارا مؤقف بھی برقرار رہے۔ مہاجرین کی نشستوں پر آزاد کشمیر کی عدالت عظمیٰ کا فیصلہ آئین کے مطابق آچکا ہے حالات کا تقاضہ ہے کہ خلیج کو کم کرنے کیلئے ایشوز خصوصی طور پر مہاجرین کی نشستوں کے حوالے سے تمام سیاسی جماعتیں، اعلیٰ ریاستی، وفاقی و مقتدر عہدیداران ایکشن کمیٹی کو مذاکرات کی میز پر لائیں اور انہیں حالات کے حقائق اور کشمیر کی آزادی پر موجودہ صورتحال کے مضر اثرات و نتائج سے آگاہی دیں کہ یہی حالات کی درستگی کا راستہ ہے۔ محاذ آرائی، سختی اور کالعدم قرار دینا نہ آزادی کشمیر کے حصول کے حق میں ہے، نہ پاکستان کے مفاد میں بلکہ ہمارے ازلی دشمن بھارت کے ایجنڈے کی تکمیل اور دیگر پاکستان دشمن قوتوں کے حق میں جا سکتا ہے۔
ہم نے ہمیشہ وطن عزیز کی سلامتی، خوشحالی، سیاسی و معاشرتی بہتری اور اتحاد کیلئے کوشش کی ہے، یہ سچویشن تو کشمیر کی آزادی کیلئے ہماری جدوجہد و عالمی سطح پر ہمارے مؤقف پر اثر انداز ہو سکتی ہے، ہماری عرض صرف اتنی ہے کہ گھر میں لگی آگ کو مصلحت و حکمت سے بجھایا جائے تاکہ ایک اور 9 مئی نہ واقع ہو اور نہ پاکستان دشمن اپنے مقاصد میں کامیاب ہو سکیں۔ ہماری آزاد کشمیر کے عوام سے دست بستہ درخواست ہے کہ وہ کشمیر کی جدوجہد آزادی کے مشن میں اپنے کردار کو برقرار رکھتے ہوئے اس حقیقت کو نہ بھولیں کہ مقبوضہ جموں کشمیر میں باالخصوص اور بھارت میں باالعموم بھارت کی ہندتوا حکومت اور جن سنگھیوں نے مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کیساتھ بدترین سلوک روا رکھے ہیں اور ان کی زندگیاں اجیرن کی ہوئی ہیں۔
٭٭٭

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here