جیل اور ہسپتالوںکا کمرہ یکساں ہوتا ہے!!!

0
3
حیدر علی
حیدر علی

غلطی میری تھی جو میں نے اپنی بیگم کو یہ بتا دیا کہ میرے پیٹ میں درد ہے جو بیلٹ کے کس کے باندھنے کی وجہ کر بھی ہوسکتا ہے۔ اِس کے فوراً بعد بیگم اور بیٹے جس کے گھر سان فرانسسکو ہم گئے ہوے تھے سرگوشی شروع کردی۔ رات کو جب میں باتھ روم جانے کیلئے اٹھا تو واپسی کے وقت بیگم نے میری قمیض کھینچتے ہوے کہا کہ تمہیں حرارت بھی ہے اِس لئے جلدی سے کپڑے پہن لو اور ہمارے ساتھ ہسپتال چلو۔ بیگم کے پیچھے ہمارے صاحبزادے بھی تشریف لائے جو کیلیفورنیا میں انجینئرنگ کنسلٹنٹ کی جاب کرتے ہیں مجھے پکڑتے ہوے گاڑی میں بیٹھادیا۔ واشنگٹن ہسپتال ہمارے گھر سے پانچ منٹ کے فاصلے پر ہے ، اسلئے ہم صبح کے چاربجے ایمرجنسی روم میں داخل ہوگئے ۔مجھے ایک کمرے میں لے جایا گیا اور بتایا گیا کہ ہمارا تفصیل سے معائنہ کیا جائیگا اور اُس کے فورا” بعد نرسوں کا ایک ٹولہ مجھ پر حملہ آور ہوگیا اور میں تماشہ ہی دیکھتا رہا۔ ایک نرس آئی اور میرے بائیں بازو سے خون کے کئی ٹیوب بھر کے چلی گئی ۔ چند ساعت بعد دوسری انجکشن لہراتے ہوے نازل ہوگئی اور پوچھا کہ مجھے جسم کے کسی حصے میں درد تومحسوس نہیں ہورہا ہے ، میں نے جواب دیا نہیں ۔ میرے پیٹ کا درد ہسپتال آتے ہی ختم ہوچکا تھا ۔ اُس نے کہا ٹھیک ہے اور پھر ٹیوب میرے خون سے بھرنا شروع کردیا۔میں نے سوچا کہ میں اپنی زبان کھولوں اور اپنی زندگی کے تجربے کو بروئے کار لائوں۔ میں نے دوسری نرس سے پوچھ لیا کہ پھر آخر کیوں ایک نرس تو اِس سے قبل دوٹیوب بھر کر گئی ہے۔ اُس نے نہایت خوش کُن لہجے میں جواب دیا کہ معائنے کیلئے اُنہیں اِس کی بھی ضرورت ہے۔ یکے بعد دیگر کئی اور نرسیں آئیں اور اپنا ٹیوب بھر کے چلی گئیں۔خون دینے کے بعد کچھ لینے کی باری آئی۔ایک مرد نرس تشریف لائے اور مجھے چار گلاس میں چار وٹامن کی ٹیبلٹ پیش کیا اور کہا کہ میں اِسے کھالوں۔ میں نے چیخ کر پوچھا کہ آخر کیوں ؟ میں رات کو سینٹرم وٹامن اے ٹو زی کھا چکا ہوں۔ اُنہوں نے انتہائی مشفقانہ انداز میں جواب دیا کہ یہ ٹیبلٹ میرے اِم میون سسٹم کو مضبوط کردے گی۔ میں نے اُسے زہر مار کرلیا۔ چند لمحہ بعد ایک دوسرے مرد نرس انجکشن لہراتے ہوے تشریف لائے اور کہا کہ اِسے میرے پیٹ میں لگانا ہے۔ میں نے پوچھا کہ یہ کیا ہے ؟ تو اُنہوں نے جواب دیا کہ اِس سے میرے خون میں تھکنس آئے گی۔ ابھی میں نے سانس بھی ٹھیک سے نہیں لیا تھا کہ ایک دوسرے مرد نرس ایک اور انجکشن لہراتے ہوے آئے اور مجھے کہا کہ اِسے پیٹ میں لگانا ہے۔ میں نے شریفانہ طور پر اُن سے کہا کہ چند منٹ قبل تو ایک نرس ہمارے پیٹ میں انجکشن لگاکر گئے ہیں، اور اب پھر دوبارہ آخر کیوں؟ اُنہوں نے جواب دیا کہ اِس سے میرے دماغ میں توازن پیدا ہوجائیگا۔
بالآخر ہیڈ نرس تشریف لائے اور کہا کہ معائنہ جاری رہیگا اور رپورٹ آنے تک مجھے ہسپتال میں رہنا پڑیگا۔مجھے میرے کمرے میں منتقل کردیا جائیگا یعنی ہسپتال کا ایک کمرہ میرا مسکن ہوگا۔ یہ سنتے ہی میری بیگم اور بیٹے نے اطمینان کا سانس لیا اور مسکرانے لگے۔ اُن کی خواہش تھی کہ میں ہسپتال کے ایک کمرے میں رہوں۔میں نے اپنے بیٹے سے غصے میں کہا کہ تم یہاں کیوں بور ہورہے ہو ۔ جاؤ اپنے دفتر جاؤ۔ بیٹے نے جواب دیاکہ وہ مجھے چھوڑ کر کہیں نہیں جانے والا ہے۔
میں کمرے میں منتقل ہوگیا اور چند لمحہ بعد ایک ٹرے جسے لیکوئیڈ بریک فاسٹ کے نام سے موسوم کیا گیا تھا میرے حوالے کردیا گیا جسے دیکھ کر میرا بلڈ پریشر آسمان سے باتیں کرنے لگا ، نہ ہی ٹوسٹ نہ ہی مکھن نہ ہی جیلی اور نہ ہی شکر اور دودھ کے ساتھ کافی۔ جو چیزیں ناشتے میں تھیں اُن میں ایپل جوس کے دو پیپر کپ ، اور بھی دوسرے جوس ۔ جیلو اور سیاہ کافی۔ اِس لئے جب لنچ میں لیکوئیڈ کے نام سے ٹرے میرے حوالے کئے گئے تو میں چیخ پڑا اور کہا کہ میں یہ نہیں کھاؤنگا۔ میرے لئے بیف اسٹیک اور فرنچ فرائز لاؤ۔مرد نرس جسکا تعلق فلپائن سے تھا افسوس کے ساتھ معذرت کرلی۔
یہ معذرت اور پریشان کُن علاج کا سلسلہ جاری رہا۔ لیکن دوسرے دِن میں نے یہ فیصلہ کرلیا کہ اب میں اِس ہسپتال میں ایک لمحہ بھی نہ رہونگا۔ ٹھیک تیس گھنٹے بعد بھارت سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹرانتہائی مہربان، انتہائی معاون تشریف لائے اور کہاکہ میرا سارا ٹیسٹ مکمل ہوچکا ہے اور سب کچھ ٹھیک ہے۔ اِس لئے میں گھر جاسکتا ہوں۔سارا ہسپتال بھارت اور فلپائن سے تعلق رکھنے والے مخلص اور ملنسار عملے کی بدولت سے چل رہا ہے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here