واشنگٹن (پاکستان نیوز)ایف بی آئی کی نئی بھرتی پالیسی کے تحت معیار میں نرمی کی خبروں نے میڈیا اور عوامی حلقوں میں شدید تنازع کھڑا کر دیا ہے، جس کے بعد معروف نیوز نیٹ ورک ایم ایس ناوأ کو اپنے لائیو شو میں ہی اہم وضاحت پیش کرنا پڑی۔ سابق ایجنٹ مائیکل فائن برگ نے چینل کے ایک پروگرام میں اینکر الیشیا مینیڈیز کے سوال کا جواب دیتے ہوئے ایف بی آئی کی تبدیلیوں پر سخت تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایجنسی کی طرف سے بھرتی کے ضوابط میں دی جانے والی رعایتوں میں سے سب سے زیادہ حیران کن اور پریشان کن اقدام جانوروں کے ساتھ بدفعلی میں ملوث افراد کے لیے دروازے کھولنا ہے۔ فائن برگ کا کہنا تھا کہ اس طرح کے اقدامات سے عام شہریوں کا قانون نافذ کرنے والے اداروں پر سے اعتماد مکمل طور پر اٹھ جائے گا اور لوگ ا?ف بی آئی کے ایجنٹوں سے بات کرتے ہوئے بھی ہچکچاہٹ محسوس کریں گے۔ تاہم، جب سابق ایجنٹ نے اس معاملے پر کھل کر بات کی تو پروگرام کی اینکر الیشیا مینیڈیز نے فوری طور پر مداخلت کی اور رپورٹ کی وضاحت کی۔ اینکر نے ناظرین کو بتایا کہ جانوروں کے ساتھ بدفعلی سے متعلق یہ رپورٹنگ دیگر خبروں کی طرح مضبوط ذرائع سے تصدیق شدہ نہیں ہے، اسی لیے چینل نے اسے ابتدائی طور پر اپنی مرکزی خبروں کا حصہ نہیں بنایا تھا۔ ڈائریکٹر کاش پٹیل کے دور میں ایف بی آئی کو مسلسل انتظامی خلفشار اور تنازعات کا سامنا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس قسم کے متنازع فیصلوں سے ادارے کی ساخت اور ساکھ پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔










