واشنگٹن (پاکستان نیوز)وفاقی عدالت نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نیویارک کے راز داری کی رقم یعنی ہش منی مقدمے کی سزا منسوخ کرنے اور اس کیس کو وفاقی عدالت میں منتقل کرنے کی درخواست تیسری بار بھی مسترد کر دی ہے۔ امریکی ڈسٹرکٹ جج اولوین ہیلرسٹین نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے ذریعے پیش کردہ دلائل قانونی طور پر کافی نہیں ہیں۔ انہوں نے اپنے حکم نامے میں تحریر کیا کہ بالغوں کی فلموں کی اداکارہ سٹرومی ڈینیئلز کے معاملے کو چھپانے کے لیے رقم ادا کرنا یا تعلقات کو پوشیدہ رکھنا صدر کے سرکاری فرائض میں شامل نہیں ہوتا اور نہ ہی یہ صدارتی استثنیٰ کے دائرہ کار میں آتا ہے۔ یہ مقدمہ نیویارک کی ریاستی عدالت میں 34 سنگین الزامات پر مبنی ہے جس میں 2016 کے صدارتی انتخابات کے دوران 130000 ڈالر کی رقم کی ادائیگی کے کاروباری رکارڈز کو غلط انداز میں پیش کرنے پر جرم ثابت ہوا تھا۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے وکیلوں کی کوشش تھی کہ امریکی سپریم کورٹ کے صدارتی استثنیٰ سے متعلق فیصلے کی بنیاد پر اس مقدمے کو وفاقی عدالت میں منتقل کروا کر منسوخ کروایا جائے۔ ترجمان ٹرمپ قانونی ٹیم نے اس فیصلے کو بے بنیاد اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ نیویارک کی وفاقی اپیلٹ کورٹ میں فوری اپیل دائر کی جائے گی۔ جج نے یہ بھی نوٹ کیا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے درخواست جمع کرانے میں تاخیر ایک حکمت عملی پر مبنی اقدام تھا جسے اب بنیاد بنا کر دوسری بار ریلیف نہیں دیا جا سکتا۔ ڈونلڈ ٹرمپ اب بھی ریاستی سطح پر اس سزا کے خلاف اپیل کے راستے کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔











