نیویارک (پاکستان نیوز)معاشی تاریخ میں پہلی بار قومی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا ہے جو ملک کی مالیاتی صحت اور معاشی مستقبل کیلئے ایک تشویشناک پیشرفت ہے۔ امریکی محکمہ خزانہ کی جانب سے جاری کردہ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق مسلسل بڑھتے ہوئے بجٹ خسارے اور سود کی اداؤگیوں کے بھاری اخراجات کے باعث قومی قرضے میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے۔ محض گزشتہ 10 سالوں میں یہ قرضہ 20 ٹریلین ڈالر سے دوگنا ہو کر 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچ چکا ہے، جبکہ اس میں روزانہ تقریباً 7 بلین ڈالر کا مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق 40 ٹریلین ڈالر کا یہ تاریخی قرضہ امریکی معاشی پیداوار سے بھی تجاوز کر چکا ہے۔ امریکی مجموعی قومی پیداوار یعنی جی ڈی پی اس وقت 32 ٹریلین ڈالر کے قریب ہے، جس کا مطلب ہے کہ قرضے اور جی ڈی پی کا تناسب 123 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ اس صورتحال کو سمجھنے کے لیے اگر امریکی آبادی کے لحاظ سے جائزہ لیا جائے تو فی الوقت ہر امریکی شہری پر اوسطاً 117000 ڈالر سے زائد کا قرضہ بنتا ہے۔ اس کے علاوہ امریکی حکومت کا مجموعی قرضہ دنیا کی پانچ بڑی معیشتوں کے مجموعی حجم سے بھی زیادہ ہو چکا ہے۔ مالیاتی تجزیہ کاروں اور معاشی اداروں نے انتباہ جاری کیا ہے کہ غیر متوقع طور پر بڑھتا ہوا یہ قرضہ اور اس پر ادا کیا جانے والا سود مہنگائی میں اضافے، عوام کے لیے شرح سود میں بلندی اور شرح نمو میں سستی کا سبب بن سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر قانون سازوں نے فوری اور سنجیدہ اقدامات نہ کیے تو ملک ایک خطرناک معاشی دلدل میں پھنس سکتا ہے۔










