نیویارک (پاکستان نیوز)ٹرمپ نے فاک لینڈ جزائر پر برطانیہ کی حاکمیت کے لیے امریکی حمایت پر نظرثانی کرنے کا اشارہ دیا ہے، جس سے واشنگٹن اور لندن کے درمیان دیرینہ سفارتی تعلقات متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے واضح کیا کہ وہ ہر موقف کا جائزہ لیتے ہیں اور یہ معاملہ بھی انہی میں شامل ہے۔ بحر اوقیانوس کے اس تنازع زدہ علاقے پر ارجنٹائن بھی دہائیوں سے ملکیت کا دعویٰ کرتا آیا ہے، جبکہ امریکہ ماضی میں برطانیہ کے انتظامی کنٹرول کو تسلیم کرتا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق امریکی انتظامیہ کا یہ قدم برطانیہ پر دفاعی بجٹ بڑھانے اور نیٹو میں مالی حصہ ڈبل کرنے کے لیے دباؤ ڈالنے کی حکمت عملی ہو سکتا ہے۔ یہ بیان ان اطلاعات کے بعد سامنے آیا ہے جن میں برطانیہ کی جانب سے 2030 تک اپنے دفاعی اخراجات مجموعی قومی پیداوار کے 3 فیصد تک بڑھانے کے وعدے سے پیچھے ہٹنے کی بات کہی گئی تھی۔ ارجنٹائن کے صدر خاویئر میلی جو ٹرمپ کے قریبی اتحادی سمجھے جاتے ہیں، ان جزائر پر اپنے ملک کے حق کے بڑے حامی ہیں۔ دوسری طرف برطانیہ نے اس حوالے سے ابھی تک کوئی سرکاری ردعمل جاری نہیں کیا ہے۔ 1982 کی جنگ کے بعد سے برطانیہ ان جزائر کو اپنا علاقہ مانتا ہے، تاہم امریکی پالیسی میں کسی بھی قسم کی تبدیلی برطانوی موقف کے لیے بڑا سفارتی دھچکا ثابت ہو سکتی ہے۔











