نیویارک (پاکستان نیوز)سیاٹل کے ڈاؤن ٹاؤن میں خالصتان ریفرنڈم کے انعقاد کے لیے تمام تر انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں جہاں اتوار کی صبح 9 بجے سے ووٹنگ کا عمل شروع ہو جائے گا۔ اس اہم موقع پر پورے شہر میں خالصتانی پرچم لہرا دئیے گئے ہیں جبکہ شہر کے مرکزی حصے میں ایک بہت بڑا پرچم بھی نصب کیا گیا ہے جو دور سے ہی سب کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ یہ ریفرنڈم سکھس فار جسٹس کی اس عالمی مہم کا حصہ ہے جس کی قیادت گورپت وانت سنگھ پنوں کر رہے ہیں اور اس کا مقصد سکھوں کے لیے ایک علیحدہ وطن کے قیام کے حوالے سے رائے عامہ معلوم کرنا ہے۔ مقامی سکھ تنظیموں نے ریفرنڈم میں شرکت کے لیے دور دراز سے آنے والے ہزاروں ووٹرز کے لیے کھانے پینے اور دیگر ضروری سہولیات فراہم کرنے کے لیے وسیع انتظامات کیے ہیں۔ سیاٹل میں اپنی نوعیت کا یہ پہلا ریفرنڈم ہے جس سے قبل 23 نومبر 2025 کو کینیڈا کے شہر اوٹاوا میں بھی اسی طرح کی ووٹنگ ہو چکی ہے جبکہ لندن، ٹورنٹو، وینکوور، روم اور جنیوا جیسے بڑے شہروں میں ہونے والے ریفرنڈمز میں لاکھوں سکھ اپنی رائے کا اظہار کر چکے ہیں۔ بھارت کی جانب سے شدید سفارتی مخالفت اور احتجاج کے باوجود امریکی حکومت نے اس ریفرنڈم کے انعقاد کی اجازت دی ہے۔ سکھ رہنماؤں نے اس موقع پر بھارتی حکومت پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بیرون ملک مقیم سکھ سرگرم کارکنوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جون 2023 میں کینیڈا میں سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجار کے قتل کے پیچھے بھی مبینہ طور پر بھارت کا ہاتھ تھا۔ گورپت وانت سنگھ پنوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اگر بھارت کے نزدیک ان ریفرنڈمز کی کوئی قانونی یا اخلاقی حیثیت نہیں ہے تو پھر بیرون ملک سکھ رہنماؤں کو کیوں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ کسی بھی خطرے سے خوفزدہ نہیں ہیں اور پنجاب کی مزاحمتی تاریخ کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ آئندہ 10 سے 15 برسوں میں خطے کا نقشہ تبدیل ہو سکتا ہے۔












