ٹرمپ انتظامیہ نے فلسطینی طلبہ کی ملک بدری روکنے والے2 ججوں کو برطرف کر دیا

0
14

نیویارک (پاکستان نیوز)محکمہ انصاف نے غزہ احتجاجی تحریک کے خلاف حکومتی مہم کے دوران دو اہم امیگریشن ججوں کو عہدوں سے برطرف کر دیا ہے جنہوں نے حال ہی میں فلسطینی نواز طلبہ کی ملک بدری کے خلاف فیصلے دیے تھے۔ برطرف کیے گئے چھ ججوں میں روپل پٹیل اور نینا فروئیس شامل ہیں جنہوں نے ٹفٹس یونیورسٹی کی طالبہ رمیسہ اوزترک اور کولمبیا یونیورسٹی کے کارکن محسن مہدوی کے کیسز کی سماعت کی تھی۔ ان طلبہ کو گزشتہ سال ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے فلسطینیوں کے حق میں آواز اٹھانے پر نشانہ بنایا گیا تھا۔ روپل پٹیل نے ایک حالیہ انٹرویو میں واضح کیا کہ اگرچہ یہ برطرفی براہ راست کسی ایک مخصوص فیصلے کا نتیجہ معلوم نہیں ہوتی لیکن یہ محکمہ انصاف کی اس وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہے جس کے تحت ان ججوں کو نکالا جا رہا ہے جو ماضی میں تارکین وطن کے حقوق کے لیے کام کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انتظامیہ امیگریشن بینچ کو اپنی سیاسی ترجیحات کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کر رہی ہے۔ نینا فروئیس نے فروری 2024 میں محسن مہدوی کی ملک بدری کو روکا تھا جنہیں شہریت کے انٹرویو کے دوران گرفتار کیا گیا تھا جبکہ روپل پٹیل نے رمیسہ اوزترک کے خلاف کارروائی یہ کہہ کر ختم کر دی تھی کہ حکومت کے پاس انہیں نکالنے کے قانونی جواز موجود نہیں ہیں۔ ان ججوں کو ان کی آزمائشی مدت ختم ہونے سے عین قبل فارغ کیا گیا ہے جس سے عدالتی نظام میں سیاسی مداخلت کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات عدلیہ کو خوفزدہ کرنے اور ملک بدری کے ایجنڈے کو تیز کرنے کی ایک کڑی ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here