اسرائیل کی نئی سرحد دریائے لیتانی تک پھیل گئی

0
5

نیویارک (پاکستان نیوز)اسرائیل کے وزیر خزانہ بیزیلیل سموٹریچ نے لبنان کے ساتھ جاری حالیہ کشیدگی کے تناظر میں ایک متنازع بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل کو اپنی سرحدوں میں تبدیلی لانی چاہیے اور اب نئی اسرائیلی سرحد دریائے لیتانی ہونی چاہیے۔ ایک مقامی ریڈیو پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ لبنان میں جاری فوجی کارروائی کا خاتمہ ایک بالکل نئی حقیقت پر ہونا چاہیے جس میں نہ صرف حزب اللہ کے خلاف فیصلہ کن اقدام شامل ہو بلکہ اسرائیل کی جغرافیائی حدود بھی بدل دی جائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ ہر فورم اور ہر بحث میں یہی موقف اپنا رہے ہیں کہ دریائے لیتانی کو ہی نئی سرحد قرار دیا جانا چاہیے۔

یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیلی فوج نے دریائے لیتانی پر قائم اہم پلوں کو فضائی حملوں میں تباہ کر دیا ہے جس کے نتیجے میں جنوبی لبنان کا رابطہ ملک کے باقی حصوں سے تقریباً کٹ چکا ہے۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ یہ کارروائی حزب اللہ کی نقل و حمل اور اسلحے کی ترسیل روکنے کے لیے کی گئی ہے۔ دوسری جانب لبنان کے صدر جوزف عون نے ان حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ لبنانی صدر کا کہنا ہے کہ بنیادی ڈھانچے اور پلوں کو نشانہ بنانا زمینی حملے کا پیش خیمہ ہے اور اسرائیل اس بہانے جنوبی لبنان کو الگ تھلگ کر کے وہاں اپنے قبضے کو طول دینا چاہتا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل کو اس جارحیت سے روکنے کے لیے فوری مداخلت کرے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here