ایران کو بھارتی تعاون درکارہے؛مودی سے اہم ملاقات

0
11

نئی دہلی (پاکستان نیوز)امریکہ کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی اور معاشی حصار کے تناظر میں ایرانی صدر نے عالمی سطح پر اثر و رسوخ رکھنے والی اہم غیر جانبدار قوتوں کے ساتھ سفارتی روابط تیز کر دیئے ہیں۔ قرغیزستان کے دارالحکومت بشکیک میں منعقدہ شانگھائی تعاون تنظیم کے سربراہی اجلاس کے موقع پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی درمیان ایک انتہائی اہم بالمشافہ ملاقات ہوئی۔ یہ ملاقات فروری میں امریکہ اور ایران کے درمیان شروع ہونے والی چھ ماہ طویل جنگی صورتحال کے بعد دونوں رہنماؤں کے درمیان پہلی براہ راست گفتگو تھی۔ اس اہم نشست میں ایرانی صدر نے بھارتی وزیراعظم پر زور دیا کہ وہ اپنے وسیع عالمی تعلقات اور اثر و رسوخ کو استعمال کرتے ہوئے تصادم کے خاتمے اور فریقین کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے میں اپنا کردار ادا کریں۔ پزشکیان نے واضح کیا کہ ایران نے ہمیشہ امن کی راہ اپنائی ہے جبکہ امریکی انتظامیہ نے قوت کے استعمال اور طاقت کے ذریعے اپنے فیصلے مسلط کرنے کا راستہ منتخب کیا ہے۔ انہوں نے امریکہ پر ماضی کے معاہدوں کی پاسداری نہ کرنے کا الزام بھی عائد کیا۔ دوسری جانب بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے تمام تنازعات کو جنگ کے بجائے بات چیت اور سفارت کاری سے حل کرنے کے تجارتی اور اصولی موقف کا اعادہ کیا۔ انہوں نے خطے میں پائیدار امن کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تجارتی جہاز رانی اور شہری تنصیبات کا تحفظ ہر صورت یقینی بنایا جانا چاہیے۔ بھارت کی جانب سے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی حفاظت اور ہندوستانی ملاحوں کی سلامتی کا مسئلہ بھی اٹھایا گیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ ملاقات ایران کے لیے غیر مغربی ممالک کے ساتھ اپنے سیاسی اور معاشی روابط مضبوط کرنے کا ایک بہترین ذریعہ ثابت ہو رہی ہے، جبکہ بھارت بھی ایرانی بندرگاہ چابہار جیسے منصوبوں اور وسطی ایشیا تک رسائی کو بحال رکھنے کے لیے تہران کے ساتھ تعاون جاری رکھنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here