اسلام آباد (پاکستان نیوز)پاکستان کی حکومت اور اڈیالہ جیل کے حکام نے سابق وزیراعظم عمران خان کو قید کے دوران نامناسب حالات اور سہولیات کی عدم فراہمی سے متعلق ملکی اور بین الاقوامی سطح پر اٹھنے والے تمام تحفظات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ حکومت کی جانب سے جاری کردہ تفصیلی بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ سابق وزیراعظم کو جیل کے قوانین اور قواعد و ضوابط کے مطابق تمام ضروری سہولیات میسر ہیں۔ سرکاری ترجمان کے مطابق اڈیالہ جیل میں ان کی صحت، غذائی ضروریات اور سیکیورٹی کا خاص خیال رکھا جا رہا ہے اور ان کے سیل میں معائنے کے لیے ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم ہر وقت دستیاب رہتی ہے۔ عمران خان کی سیاسی جماعت اور ان کی قانونی ٹیم کی جانب سے یہ الزام عائد کیا گیا تھا کہ جیل میں سابق وزیراعظم کو قید تنہائی میں رکھا گیا ہے اور انہیں بنیادی قانونی و انسانی حقوق سے محروم کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ بین الاقوامی اداروں اور حقوق انسانی کے تنظیموں نے بھی ان کی صحت اور جیل کے ماحول پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ تاہم پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ ان تمام دعوؤں میں کوئی سچائی نہیں ہے اور قیدی کو ان کی سیکیورٹی کی نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے بہترین ممکنہ ترتیبات کے ساتھ رکھا گیا ہے۔ حکومتی حکام نے اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ پاکستان کا عدالتی اور جزا و سزا کا نظام تمام شہریوں اور قیدیوں کے ساتھ یکساں قانون کے تحت عمل کرتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سابق وزیراعظم کو مطالعہ کے لیے کتب، قانونی مشیروں سے ملاقات اور باقاعدگی سے طبی معائنے کی سہولت بھی حاصل ہے۔ اس جامع وضاحت کے ذریعے حکومت نے بین الاقوامی برادری اور ملکی حلقوں کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ جیل کے معاملے میں کسی قسم کا غیر قانونی یا ناروا سلوک روا نہیں رکھا جا رہا اور عدالتوں کے احکامات پر من و عن عمل درامد جاری ہے۔










