نیویارک (پاکستان نیوز)پولیس اکیڈمی کے تربیتی مرکز میں ایک سیاسی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ میں مکمل فتح حاصل کرنے کے بعد وہ بہت جلد دنیا کی انتہائی اہم اور حساس تجارتی سمندری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دیں گے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ٹرمپ نے اپنے حامیوں اور پولیس اہلکاروں کی موجودگی میں مسکراتے ہوئے کہا کہ اس وقت ایران کو سخت شکست کا سامنا ہے اور اس کو مکمل طور پر نیچا دکھانے کے بعد وہ اس اہم ترین راستے کو باقاعدہ امریکی قلمرو میں شامل کرنے کا اعلان کریں گے۔امریکہ نے 28 فروری کو اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف نظامی کارروائی کا آغاز کیا تھا جس کا بنیادی مقصد تہران کے متنازع ایٹمی پروگرام کا خاتمہ اور وہاں حکومت کی تبدیلی کو ممکن بنانا تھا۔ تاہم، اس جنگ کے جواب میں ایران نے عالمی توانائی اور تجارتی مال برداری کے لیے کلیدی اہمیت کی حامل اس آبی گزرگاہ کے ایک بڑے حصے پر اپنا کنٹرول قائم کر لیا جس کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان شدید تناؤ پیدا ہو چکا ہے۔امریکی صدر نے تقریر کے دوران اس بات کا اعتراف کیا کہ خطے میں فوجی کشیدگی اور ناکہ بندی کے باعث عالمی مارکیٹ میں پیٹرولیم مصنوعات اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے امریکی عوام پر زور دیا کہ وہ پیٹرول کے لیے چند سینٹ اضافی رقم برداشت کریں کیونکہ یہ ایک خطرناک اور جوہری صلاحیت کے قریب پہنچنے والے ملک کو روکنے کی قیمت ہے۔سیاسی ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کا یہ اقدام آئندہ نومبر کے مڈ ٹرم انتخابات سے قبل سیاسی طور پر خطرناک ثابت ہو سکتا ہے، جہاں ڈیموکریٹس ایندھن کی بڑھتی قیمتوں اور معاشی اثرات کو صدر کے خلاف انتخابی موضوع بنا رہے ہیں۔ تاہم، امریکی صدر نے اپنے دفاع میں کہا کہ وہ ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے کے اپنے فیصلے پر کبھی معافی نہیں مانگیں گے کیونکہ یہ قدم پورے امریکہ اور دنیا کی سلامتی اور تحفظ کی خاطر اٹھایا گیا ہے۔











