کرپشن ، غیر قانونی سرمایہ کاری اور مالیاتی جرائم پر پردہ پوشی کیلئے نیا قانون نافذ

0
4

واشنگٹن (پاکستان نیوز)امریکی تاریخ میں اقتدار کے اعلیٰ ایوانوں سے جنم لینے والی بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کی کہانی کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن موجودہ صورتحال نے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔ ملک کے شعبہ خزانہ کی جانب سے متعارف کروائے گئے نئے ضوابط اور مالیاتی قوانین میں کی جانے والی تبدیلیاں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ کس طرح ریاست کے نگران ہی قانون کی گرفت کو کمزور کرنے پر تل گئے ہیں۔ اس اہم اقدام کا بنیادی مقصد غیر قانونی ذرائع سے حاصل ہونے والی دولت اور اس کی منتقلی پر نظر رکھنے والے نظام کو مفلوج کرنا ہے تاکہ بااثر سیاسی و کاروباری شخصیات اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو بے لگام آزادی میسر آ سکے۔

کارپوریٹ شفافیت کے جس قانون کا مقصد گمنام اور نادیدہ کمپنیوں کے حقیقی مالکان کی نشاندہی کرنا تھا، اس کی بنیادی روح کو حالیہ اقدامات کے ذریعے یکسر معطل کر دیا گیا ہے۔ نئے احکامات کے تحت نہ صرف حقیقی ملکیت کی تفصیلات فراہم کرنے کی شرط ختم کی گئی ہے بلکہ تحقیقاتی اداروں کے پاس موجود سابقہ تمام مالکانہ ریکارڈ کو بھی تلف کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ کسی بھی طور پر معاشی بہتری یا شفافیت کے لیے نہیں بلکہ ماضی کی غیر قانونی مالیاتی سرگرمیوں کو چھپانے کی ایک کھلی کوشش دکھائی دیتا ہے۔

جائیداد کی خرید و فروخت کی منڈی طویل عرصے سے غیر ملکی اور ملکی خائن عناصر کے لیے غلاظت کی دھلائی کا ذریعہ رہی ہے۔ دیگر تمام ترقی یافتہ ممالک نے اپنے حفاظتی قوانین کو سخت سے سخت تر بنایا ہے تاکہ غیر قانونی سرمائے کے بہاؤ کو روکا جا سکے، لیکن امریکہ میں پالیسی سازوں نے ان اداروں کی طاقت اور اختیارات کو ختم کر دیا ہے۔ سیاسی انتخابات پر اثر انداز ہونے والے نگراں اداروں کو دانستہ طور پر بے بس کر کے بیرونی اور اندرونی مالدار طبقات کے لیے راہ ہموار کی جا رہی ہے۔ جب اداروں کے پر کاٹ دیے جائیں گے اور تمام شواہد مٹا دیے جائیں گے تو قانون کی فوقیت محض ایک نام کی رہ جائے گی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here