نیویارک (پاکستان نیوز)معروف قانون دان اور سماجی رہنماء جبران ناصر نے ملک کی موجودہ سیاسی و معاشی صورتحال، میڈیا سنسرشپ اور عوام پر بڑھتے ہوئے دباؤ پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ تمام تر طاقت اور انتظامی کنٹرول کے باوجود حکومت عوام کے دلوں سے سابق وزیراعظم عمران خان کی محبت اور ان کے نظریئے کو ختم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ 17 اگست 2026 کو اینکر پرسن امیر عباس کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے جبران ناصر نے ملک کے سیاسی و آئینی بحران پر تفصیلی گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ڈھائی تین سال کا عرصہ گزرنے اور تمام تر امور پر کنٹرول حاصل ہونے کے باوجود ایک فرد سے متعلق عوامی رائے کو تبدیل نہیں کیا جا سکا۔ اگر انتظامی تدابیر سے عوام کی سوچ بدلنا ممکن ہوتا تو 8 فروری کو ملک کے کروڑوں شہری اتنی کثیر تعداد میں عمران خان کے حق میں اپنا ووٹ ہرگز نہ ڈالتے۔ جبران ناصر نے مزید کہا کہ طاقت اور سنسرشپ کے ذریعے سچ کو نہیں بدلا جا سکتا۔ ظالم ہمیشہ مظلوم کو خاموش کروانے کو امن کا نام دیتا ہے، اور جب بھی کوئی مظلوم اپنی تکلیف بیان کرے تو اسے بدامنی قرار دے کر جیل میں ڈال دیا جاتا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ریاستی دباؤ اور سنسرشپ کے ذریعے معاملات کو کنٹرول کرنے کی کوشش ایک پریشر ککر کی مانند ہے جو ایک نہ ایک دن پھٹ جائے گا۔ تمام تر گرفتاریوں اور مقدمات کے باوجود عوام حقائق سے باخبر ہیں اور اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں ہیں۔









