امن معاہدے کا اصل منصوبہ بے نقاب

0
7

نیویارک (پاکستان نیوز) مشرقِ وسطیٰ اس وقت تاریخ کے ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑا ہے جہاں سفارتی بساط پر بظاہر امن کے پتے پھینکے جا رہے ہیں لیکن پسِ چلمن ایک ہولناک اور گہرا کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ ممکنہ امن معاہدے کے ڈول ڈالنے اور اس حوالے سے مسلم ممالک کے سربراہان کو یکجا کرنے کی حالیہ کوششیں بظاہر خطے میں جنگ کے بادل چھانٹنے کی ایک معصومانہ اور مدبرانہ کوشش نظر آتی ہیں لیکن گہرائی میں اتر کر دیکھا جائے تو یہ پورا منظرنامہ محض ایک فریبِ نظر ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکی انتظامیہ مسلم دنیا کے ساتھ خوشگوار اور برابری کے تعلقات کا ڈھونگ رچا کر دراصل خالصتاً اسرائیل کے دیرینہ معاشی، سیاسی اور مذہبی عزائم کو تحفظ فراہم کرنے کی چوکیداری کر رہی ہے۔ تہران کے ساتھ ساٹھ روزہ جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کو کھولنے کے نام پر جو سودے بازی ہو رہی ہے، اس کے پردے میں اسلامی ممالک پر ایک ایسا دباؤ بڑھایا جا رہا ہے جس کا مقصد اسرائیل کو مستقل بنیادوں پر خطے کا بلا شرکتِ غیرے چوہدری بنانا ہے۔سب سے زیادہ تشویشناک امر یہ ہے کہ ایک طرف جہاں واشنگٹن امن مذاکرات کا راگ الاپ رہا ہے، وہیں دوسری طرف ایران پر نئے فوجی حملوں اور معاشی ناکہ بندیوں کے ذریعے اس ممکنہ ڈیل کو خود سبوتاژ کرنے کی راہیں بھی ہموار کی جا رہی ہیں۔ یہ دوغلی پالیسی اس بات کا بین ثبوت ہے کہ امریکہ کبھی بھی ایران کو ایک خود مختار اور باوقار فریق کے طور پر تسلیم کرنے کو تیار نہیں بلکہ وہ تہران کو مستقل دباؤ میں رکھ کر اس کے جوہری پروگرام کی مکمل تباہی اور خطے میں اس کے اثر و رسوخ کا خاتمہ چاہتا ہے۔ جب ایک ہاتھ میں امن کا مسودہ ہو اور دوسرے ہاتھ میں جنگی ہتھیار تو سفارتی کوششوں کی نیت خود بخود واضح ہو جاتی ہے۔ تہران پر حالیہ حملوں نے ان تمام امن پسند کوششوں پر پانی پھیر دیا ہے جن کی ثالثی کے لیے خطے کے بعض اہم اسلامی ممالک دن رات ایک کر رہے تھے۔ ان جارحانہ اقدامات سے یہ واضح ہو گیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کا اصل مقصد امن کا قیام نہیں بلکہ ایک ایسا ماحول پیدا کرنا ہے جہاں ایران مجبور ہو کر گھٹنے ٹیک دے اور اسرائیل کے خلاف خطے میں کوئی متبادل قوت باقی نہ رہے۔ اس پورے کھیل کا دوسرا اور سب سے خطرناک رخ وہ ٹیلی فونک رابطہ ہے جس میں امریکی صدر نے پاکستان، سعودی عرب، قطر، ترکی اور دیگر اسلامی ممالک کے سربراہان کو لائن پر لے کر امن معاہدے کی کامیابی کو اسرائیل کو تسلیم کرنے سے مشروط کر دیا۔ ابراہیمی معاہدے کا دائرہ وسیع کرنے کا یہ اصرار اور مسلم رہنماؤں کو یہ دھمکی دینا کہ جو اس معاہدے پر دستخط نہیں کرے گا اس کی نیت پر شک کیا جائے گا، سفارتی آداب کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ اسلامی دنیا اس صورتحال کو انتہائی سنجیدگی اور تشویش کے ساتھ دیکھ رہی ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب جیسے ممالک کا موقف ہمیشہ سے واضح رہا ہے کہ جب تک فلسطینیوں کو ان کا جائز حقِ خود ارادیت اور ایک آزاد ریاست نہیں مل جاتی، اسرائیل کے ساتھ کسی قسم کے سفارتی تعلقات کا تصور بھی ممکن نہیں۔ ٹرمپ نے اس دیرینہ اصولی موقف کو یکسر نظرانداز کرتے ہوئے اسے تہران کے ساتھ امن سے جوڑ دیا، جو کہ مسلم ممالک کو بلیک میل کرنے کی ایک بھونڈی کوشش ہے۔ بات صرف سیاسی یا سفارتی تعلقات تک محدود نہیں رہی، بلکہ اب مسلمانوں کے تیسرے مقدس ترین مقام یعنی مسجدِ اقصی کے خلاف بھی ایک گہری اور خطرناک سازش کا تانا بانا بنا جا رہا ہے۔ تاریخی اور بین الاقوامی قوانین کے تحت مسجدِ اقصی کی تولیت اور دیکھ بھال کے تمام تر حقوق اردن کی ہاشمی سلطنت کے پاس ہیں، جو دہائیوں سے اس مقدس مقام کے اسلامی تشخص کی حفاظت کرتی آئی ہے۔ لیکن اب امریکی صدر اپنے داماد جیرڈ کشنر اور اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک ہکابی کے ذریعے ایک ایسا منصوبہ سامنے لائے ہیں جو اردن کے ان تاریخی حقوق کو مکمل طور پر چھین لینے کی سازش ہے۔ اس نئے امریکی منصوبے کے تحت مسجدِ اقصی پر اردن کی اجارہ داری اور اسلامی اوقاف کے اختیارات کو یکلخت ختم کر کے ایک نئی بین الاقوامی اتھارٹی قائم کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ اس نئی اتھارٹی کی تشکیل کا بظاہر مقصد یہ بتایا جا رہا ہے کہ مسجدِ اقصی کو تمام ابراہیمی مذاہب کے لیے عبادت گاہ اور ایک عالمی سیاحتی مرکز بنا دیا جائے جہاں یہودیوں کو بھی بڑے گروہوں کی شکل میں باقاعدہ عبادت کی اجازت ہو۔ یہ بظاہر رواداری اور بین المذاہب ہم آہنگی کا ایک خوشنما نعرہ ہے لیکن اس کے پیچھے چھپا ہوا اصل صیہونی ایجنڈا مسجدِ اقصی کے خالص اسلامی تشخص کو ملیا میٹ کرنا ہے۔ اگر یہ اتھارٹی قائم ہو جاتی ہے تو مسلمانوں کے اس مقدس ترین مقام پر اماموں، خطیبوں اور موذنوں کے تعین کا اختیار بھی بالواسطہ یا بلاواسطہ اسرائیل کے ہاتھ میں چلا جائے گا اور جمعہ کے خطبات تک کی منظوری صیہونی حکام سے لینا پڑے گی۔ ٹرمپ انتظامیہ اس گھناؤنے منصوبے کو قابلِ قبول بنانے کے لیے دیگر اسلامی ممالک کو اس نئی اتھارٹی میں باری باری شامل کرنے کا لالی پاپ دے رہی ہے تاکہ اردن کو تنہا کیا جا سکے اور مسلم دنیا کو آپس میں لڑا کر مسجدِ اقصی کا سودا کر دیا جائے۔ اردن کے پارلیمان اور وزارتِ خارجہ نے اس امریکی و اسرائیلی گٹھ جوڑ کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے اور اسے بین الاقوامی قوانین اور تاریخی معاہدوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ اسلامی دنیا کے لیے یہ وقت انتہائی کڑے امتحان کا ہے کیونکہ یہ حملہ بیک وقت ان کی سیاسی غیرت، اصولی سفارت کاری اور مذہبی مقدسات پر کیا گیا ہے۔ ایک طرف ایران کے ساتھ امن کے نام پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کا دباؤ ہے، دوسری طرف تہران پر حملے کر کے خطے کو مستقل عدم استحکام کا شکار رکھا جا رہا ہے اور تیسری طرف قبلہ اول کی تولیت کو بدلنے کی سازشیں عروج پر ہیں۔ ان تمام کڑیوں کو جوڑ کر دیکھا جائے تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ ٹرمپ کی تمام تر سفارتی سرگرمیاں، مسلم ممالک کے سربراہان کے ساتھ طویل بیٹھکیں اور امن کے گیت دراصل ایک ایسا جال ہیں جس کا واحد مقصد صیہونی ریاست کے مفادات کی چوکیداری کرنا ہے۔ اسلامی ممالک کو اس مصلحت پسندانہ جال سے نکلنے کے لیے ایک مضبوط اور متحدہ حکمتِ عملی اپنانی ہوگی، ورنہ امن کے اس سراب میں وہ نہ صرف اپنی سفارتی خود مختاری کھو بیٹھیں گے بلکہ قبلہ اول کے اسلامی تشخص کا تحفظ بھی داؤ پر لگ جائے گا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here