اسلام آباد (پاکستان نیوز)کوئٹہ کے علاقے فقیر آباد میں اتوار کی صبح ایک خوفناک خودکش کار بم دھماکے میں کم از کم 24 افراد جاں بحق اور 70 سے زائد شدید زخمی ہو گئے۔ عینی شاہدین اور سیکورٹی ذرائع کے مطابق یہ تباہ کن حملہ صبح لگ بھگ 8 بجے اس وقت ہوا جب ایک مسافر شٹل ٹرین ریلوے ٹریک کے قریب سے گزر رہی تھی جہاں معمول کے مطابق سیکورٹی فورسز کے اہلکار بھی تعینات تھے۔ دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ ٹرین کا انجن اور 3 بوگیاں پٹری سے اتر گئیں جبکہ 2 مسافر بوگیاں مکمل طور پر الٹ گئیں اور ان میں شدید آگ بھڑک اٹھی۔ دھماکے کی لہر سے نہ صرف ریلوے کا نظام درہم برہم ہوا بلکہ آس پاس کی عمارتوں، گھروں کے شیشے ٹوٹ گئے اور قریبی پھاٹک پر کھڑی متعدد گاڑیاں بھی آگ کی لپیٹ میں آ گئیں۔ حکام نے تصدیق کی ہے کہ جاں بحق ہونے والوں میں سرحد کی حفاظت پر مامور 3 پولیس اہلکار بھی شامل ہیں تاہم ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی بھاری اکثریت عام شہریوں، مسافروں اور راہگیروں پر مشتمل ہے۔ واقعے کے فوری بعد کوئٹہ کے تمام بڑے سرکاری ہسپتالوں میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی جہاں متعدد زخمیوں کی حالت اب بھی تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ کالعدم تنظیم بلوچستان لبریشن آرمی نے اس بزدلانہ کارروائی کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر اعلی بلوچستان سرفراز بگٹی نے واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے معصوم شہریوں کو نشانہ بنانے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے اور عزم ظاہر کیا ہے کہ ریاست اس دہشت گردی کے ماسٹر مائنڈز کو عبرتناک انجام تک پہنچائے گی۔ بین الاقوامی سطح پر اقوام متحدہ نے بھی اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔










