واشنگٹن (پاکستان نیوز)سپریم کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس ایگزیکٹو آرڈر کو کالعدم قرار دے دیا ہے جس کے تحت امریکہ میں پیدا ہونے والے غیر ملکی والدین کے بچوں کی پیدائشی شہریت ختم کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ عدالت نے 6ـ3 کے تناسب سے یہ فیصلہ سناتے ہوئے 14 ویں ترمیم کے تحت حاصل پیدائشی شہریت کے حق کو برقرار رکھا۔ اس فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے ایوان نمائندگان کے اسپیکر مائیک جانسن نے شدید مایوسی کا اظہار کیا۔ جانسن کا کہنا تھا کہ پیدائشی شہریت کے حق کا حالیہ برسوں میں غلط استعمال کیا گیا ہے اور یہ فیصلہ قومی سلامتی کے لیے چیلنجز پیدا کر سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کانگریس کو اس معاملے پر قانون سازی کے ذریعے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب صدر ٹرمپ کی بھتیجی اور ماہر نفسیات میری ٹرمپ نے مائیک جانسن کے بیان کو انتہائی تشویشناک قرار دیا ہے۔ انہوں نے اپنے ایک مضمون میں لکھا کہ ایک آئینی وکیل ہونے کا دعویٰ کرنے والے اسپیکر کا سپریم کورٹ کے آئین کی پاسداری کرنے والے فیصلے پر اعتراض کرنا امریکی سیاست کی بگڑتی ہوئی صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔ میری ٹرمپ نے تنقید کی کہ جانسن اور کچھ ججوں کا یہ رویہ آئین کے واضح الفاظ کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے، اور یہ سوچنا کہ صرف ایک ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے اہم آئینی ترامیم کو مٹایا جا سکتا ہے، ملک کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔قانونی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ ثابت کرتا ہے کہ صدر اپنی مرضی سے آئینی حقوق میں تبدیلی نہیں کر سکتے اور پیدائشی شہریت کا اصول امریکی جمہوریت کا ایک بنیادی ستون برقرار رہے گا۔










