نیویارک (پاکستان نیوز) نیویارک شہر میں دوسرے لگژری مکانات پر نئے ٹیکس کے نفاذ کے طریقہ کار کے بعد پیدا ہونے والی پریشانی کے ردعمل میں تین شہریوں نے میئر زہران ممدانی اور بلدیاتی انتظامیہ کیخلاف عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا ہے۔ داد خواہی کرنے والوں کا موقف ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے ٹیکس کے بارے میں ناقص معلومات اور نوٹس جاری کرنے سے ان ہزاروں شہریوں میں غیر ضروری خوف پھیل گیا ہے جن کے مکانات اس ٹیکس کے دائرہ کار میں آتے ہی نہیں تھے۔ وکلا کے مطابق شہر کے محکمہ مالیات نے پہلے تقریباً 10 لاکھ جائیدادوں کی ایک عمومی فہرست عام کی اور بعد میں 17000 مالکان کو ایسے خطوط بھیجے جن سے یہ تاثر ملا کہ انہیں بھاری ٹیکس دینا پڑ سکتا ہے۔ اس قانونی چیلنج میں استدعا کی گئی ہے کہ عدالت ان تمام نوٹسز کو قانونی طور پر کالعدم قرار دے۔ دوسری جانب میئر زہران ممدانی کی انتظامیہ نے اپنے اقدامات کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاستی قوانین کے تحت جائیدادوں کی فہرست عام کرنا ضروری تھا اور شہریوں کو استثنیٰ کی درخواست دینے کے لیے 18 ستمبر تک کی مہلت فراہم کی گئی ہے۔ یہ نیا ٹیکس ان رہائش گاہوں پر عائد کیا گیا ہے جو بنیادی گھر کے طور پر استعمال نہیں ہوتیں اور جن کی مالیت 5 ملین ڈالر سے زائد ہو، جبکہ دیگر فلیٹس اور اپارٹمنٹس کے لیے یہ حد 1 ملین ڈالر مقرر کی گئی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق اس اقدام سے شہر کو سالانہ 500 ملین ڈالر کی آمدن حاصل ہوگی جس کا مقصد بنیادی عوامی خدمات کو بہتر بنانا اور بجٹ کے خسارے کو پورا کرنا ہے۔ اگرچہ اس فیصلے پر امیر طبقے اور کاروباری شخصیات کی جانب سے شدید تنقید کی جا رہی ہے، تاہم معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے ریئل اسٹیٹ مارکیٹ پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا۔ بلدیاتی حکام نے عدالت میں اس پالیسی کا بھرپور دفاع کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔












