مائلز ٹیلر کی طاقت کے ذریعے لوگوں کو مرغوب کرنیکی پالیسی پر شدید تنقید

0
19

واشنگٹن (پاکستان نیوز)ڈونلڈ ٹرمپ کی پہلی مدت صدارت کے ایک سابق اہلکار مائلز ٹیلر نے وائٹ ہاؤس میں اپنے پہلے ہفتے کی ایک ایسی کہانی شیئر کی ہے جس نے برسوں سے ان کے ذہن پر گہرے نقوش چھوڑ رکھے ہیں۔ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے سابق چیف آف اسٹاف مائلز ٹیلر کے مطابق یہ واقعہ شاید کبھی حقیقت میں پیش ہی نہیں آیا تھا لیکن یہ کہانی طرز حکومت کے بارے میں ڈونلڈ ٹرمپ کی سوچ کی عکاسی کرتی ہے۔ ٹیلر نے اس بات کا تذکرہ کیا کہ انہوں نے شروع سے ہی امریکی جمہوریت کے زوال کو بہت قریب سے دیکھا تھا۔ مائلز ٹیلر نے ماضی میں ایک گمنام مضمون بھی لکھا تھا جس میں انہوں نے بتایا تھا کہ کس طرح پہلی مدت میں ٹرمپ کے مشیر ان کے سخت فیصلوں کے سامنے ایک مزاحمت بن کر کھڑے ہوتے تھے لیکن دوسری مدت میں صدر نے ایسے تمام اعتدال پسند افراد کو اپنے دائرے سے باہر کر دیا ہے۔ ٹیلر نے خبردار کیا کہ ٹرمپ کے رویے میں ان قدیم جابر حکمرانوں کی جھلک ملتی ہے جنہوں نے ماضی میں بڑی سلطنتوں کو تباہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ وائٹ ہاؤس کے پہلے ہفتے میں صدر نے صحافیوں کو اوول آفس کا دورہ کرایا جہاں انہوں نے نئے پردے اور قالین لگوائے تھے۔ اس دوران صدر نے صحافیوں کو ایک عجیب کہانی سنائی کہ ایک بہت مضبوط اور سخت مزاج شخص ان کے دفتر میں آیا اور وہاں کی ہیبت دیکھ کر رونے لگا۔ صدر کا کہنا تھا کہ لوگ جب وائٹ ہاؤس کی طاقت دیکھتے ہیں تو وہ سوچتے ہیں کہ صدر کو انکار کرنے کی جرات کون کر سکتا ہے۔ ٹیلر کا ماننا ہے کہ ٹرمپ نے ہمیشہ اپنے اقتدار کو لوگوں کو ڈرانے اور مجبور کرنے کے لیے استعمال کیا اور وہ کسی بھی آئینی ادارے یا عدالت کے سامنے جوابدہ ہونا پسند نہیں کرتے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here