28فروری2026 سے 7 اپریل 2026تک جاری رہنے والی چالیس روزہ جنگ نے مشرق وسطیٰ کے نقشے پر ہی نہیں بلکہ انسانیت کے اجتماعی شعور پر ایسے گہرے زخم ثبت کیے ہیں جنہیں فراموش کرنا ممکن نہیں۔ یہ صرف دو ملکوں کے درمیان طاقت کا تصادم نہیں تھا بلکہ اس سے کہیں بڑھ کر یہ ایک سوچی سمجھی اور منظم تزویراتی حکمت عملی کا حصہ تھا جس کا بنیادی ہدف ایران کا تعلیمی، طبی، اور سائنسی ڈھانچہ تھا۔ جب دنیا کے بڑے بڑے ماہرین، محققین اور علمی اداروں نے اس تباہی کی تفصیلات دیکھی تو وہ ششدر رہ گئے۔ یہ جنگ اپنے پیچھے ایسی تباہی کی داستان چھوڑ گئی ہے جس نے عالمی برادری کے دعووں کو کھوکھلا ثابت کر دیا ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے کی گئی اس شدید بمباری کے دوران جن مقامات کو نشانہ بنایا گیا ان میں بچوں کے اسکول، ہسپتال، اور وہ تحقیقی مراکز شامل تھے جو محض ایران کے لیے نہیں بلکہ پوری دنیا کی فلاح کے لیے کام کر رہے تھے۔ یہ محض جنگی کارروائی نہیں تھی بلکہ ایک ایسی وحشت تھی جس کا مقصد ایک قوم کے دماغ کو مفلوج کرنا تھا۔ بین الاقوامی ماہرین قانون اور سائنسدانوں نے اس دانستہ کارروائی کے لیے ایک اصطلاح استعمال کی ہے جس کا مطلب کسی ملک کے تعلیمی، فکری، اور علمی نظام کا مکمل قتل عام کرنا ہے تاکہ وہاں کی آنے والی نسلیں سوچنے، سمجھنے اور ترقی کرنے کی صلاحیت سے ہمیشہ کے لیے محروم ہو جائیں۔ اس گھناؤنے مقصد کے حصول کے لیے آٹھ ممالک کے سولہ بڑے سائنسی اور طبی اداروں نے مل کر جو تحقیقاتی رپورٹ تیار کی ہے وہ انسانیت کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ ہے۔
اس تباہی کا سب سے تکلیف دہ پہلو تہران میں واقع پاسچر انسٹی ٹیوٹ کو نشانہ بنانا تھا۔ ایک سو چھ سال پرانا یہ ادارہ عالمی ادارہ صحت کا ایک باقاعدہ معاون مرکز تھا، جہاں سے پوری دنیا کے لیے پولیو، خسرہ، ہیپاٹائٹس، اور ایڈز جیسی مہلک بیماریوں کے خلاف ویکسین اور حفاظتی ٹیکے تیار کیے جاتے تھے۔ اس مرکز پر بمباری کا مطلب یہ ہے کہ حملہ آوروں نے صرف ایک عمارت نہیں گرائی بلکہ پوری انسانیت کے لیے صحت کے تحفظ کے نظام کو شدید خطرے میں ڈال دیا ہے۔ یہاں موجود نایاب جراثیمی نمونے اور ایک صدی پر محیط تحقیقی دستاویزات جو اب کبھی حاصل نہیں ہو سکتیں، ہمیشہ کے لیے راکھ کا ڈھیر بن گئیں۔ یہ عمل جنیوا معاہدے کی صریح خلاف ورزی ہے جو جنگ کے دوران بھی طبی، امدادی، اور علمی اداروں پر حملے کی سخت ممانعت کرتا ہے۔
اسی طرح اس جنگ کے دوران ایران کے تعلیمی نظام کو تباہ کرنے کی جو مہم چلائی گئی اس میں بتیس بڑی یونیورسٹیوں کو براہ راست نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں کے نتیجے میں دس سے زائد عالمی شہرت یافتہ پروفیسر شہید ہوئے اور ساٹھ سے زیادہ پی ایچ ڈی کرنے والے طلبا و طالبات اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ان یونیورسٹیوں میں شہید بہشتی یونیورسٹی کا لیزر اور پلازما ریسرچ کا شعبہ بھی شامل تھا جو جدید طبیعات کے میدان میں دنیا کے گنے چنے مراکز میں شمار ہوتا تھا۔ اس تباہی کا مقصد واضح تھا کہ ایران کو سائنسی اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں صدیوں پیچھے دھکیل دیا جائے۔
صرف یہی نہیں بلکہ حملہ آوروں نے ایران کی ثقافتی شناخت کو مٹانے کا بھی کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا۔ چھپن تاریخی مقامات اور پچپن بڑی لائبریریوں کو بمباری کا نشانہ بنایا گیا جہاں دنیا بھر کی نایاب کتابیں اور صدیوں پرانے قلمی نسخے موجود تھے۔ ان علمی خزانوں کو جلا کر راکھ کر دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ جنگ صرف عسکری برتری کے لیے نہیں تھی بلکہ ایک تہذیب کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے لیے لڑی گئی تھی۔ اس دوران لبنان کے گنجان آباد علاقوں میں سفید فاسفورس جیسے ممنوعہ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال بھی کیا گیا، جو انسانی جسم کو پگھلا دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس بربریت پر پینٹاگان کے ذمہ داران کے بیانات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ انہیں انسانی حقوق یا جنگی قوانین کا کوئی پاس نہیں تھا۔
اب جبکہ یہ تمام دستاویزی ثبوت، سیٹلائٹس سے حاصل کردہ تصاویر اور فرانزک رپورٹس مکمل ہو چکی ہیں، ایران کی حکومت بین الاقوامی عدالت انصاف میں اس بربریت کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا عالمی برادری اس سائنسی اور تعلیمی قتل عام پر صرف زبانی مذمت تک محدود رہے گی یا مجرموں کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کی جرات بھی کرے گی۔ اگر آج اس کھلی دہشت گردی کو نہ روکا گیا اور امریکہ اور اسرائیل کو جوابدہ نہ ٹھہرایا گیا تو مستقبل میں کسی بھی جنگ کے دوران اسکولوں، ہسپتالوں، اور لائبریریوں کو بچانے کا کوئی اخلاقی راستہ باقی نہیں بچے گا۔ یہ وقت کا تقاضا ہے کہ دنیا متحد ہو کر اس وحشت کے خلاف آواز اٹھائے، کیونکہ اگر آج تعلیم اور علم کے مراکز محفوظ نہیں تو کل انسانیت بھی محفوظ نہیں رہے گی۔ یہ صرف ایران کا نقصان نہیں بلکہ پوری دنیا کے اجتماعی ضمیر کی شکست ہے۔
٭٭٭













