مزیدصوبوں کا پلان … مزید لسانی تقسیم!!!

0
6
شمیم سیّد
شمیم سیّد

پاکستان کی سیاست کا المناک پہلو یہ ہے کہ جب بھی حاکمِ وقت یا مقتدر طبقہ اپنی انتظامی ناکامیوں سے نظریں چرانا چاہتا ہے، تو کسی نئے شوشے یا آئینی تجربے کا غبارہ ہوا میں چھوڑ دیا جاتا ہے۔ حالیہ دنوں میں سینیٹر محسن نقوی کی تقریر کے بعد ملک کے طول و عرض میں نئے انتظامی یونٹس اور بیس صوبوں کی تشکیل کا جو غوغا برپا ہے، وہ دراصل اس گرتے ہوئے بوسیدہ نظام پر ایک مصنوعی پردہ ڈالنے کی سیاسی کوشش معلوم ہوتی ہے۔ بیس سو پچاس تک ملک کی آبادی چالیس کروڑ کے قریب پہنچنے کے اعداد و شمار دکھا کر عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ تمام انتظامی ابتری اور لاقانونیت کا واحد سبب موجودہ چار صوبوں کی بوجھل ساخت ہے۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا کاغذ پر لکیریں کھینچ کر صوبوں کی تعداد بڑھا دینے سے عوامی مسائل جادو کی چھڑی سے حل ہو جائیں گے؟
پاکستان کا طرزِ حکمرانی کسی جغرافیائی حد بندی کی خرابی کی وجہ سے نہیں بلکہ اخلاقی اور انتظامی انحطاط کے باعث مفلوج ہوا ہے۔ جب ملک کا وزیرِ داخلہ سرِ عام اس بات کا اعتراف کرے کہ ریاست کا موجودہ نظام مکمل طور پر زمین بوس ہو چکا ہے، تو یہ اعترافِ جرم دراصل اس اشرافیہ کی ناکامی کا کھلم کھلا ثبوت ہے جو دہائیوں سے اس ملک کی مالک بنی بیٹھی ہے۔ اگر بیس نئے صوبے قائم کر بھی دئیے جائیں تو ان نوزائیدہ علاقوں کو چلانے کے لیے اسی پرانے اور ناکارہ افسرشاہی کے نظام کو تعینات کیا جائے گا۔ اس کا سیدھا سا مطلب یہ ہوگا کہ عوام پر ٹیکسوں کا مزید بوجھ ڈال کر بیس نئے وزرائے اعلیٰ، درجنوں نئے وزراء اور سینکڑوں سینیئر سول افسران کی شاہانہ مراعات، چمکتی گاڑیوں اور عالیشان بنگلوں کا بندوبست کیا جائے گا۔
اس مجوزہ نقشے کا ایک اور انتہائی حساس اور سنگین پہلو قومی یکجہتی اور ثقافتی شناخت سے جڑا ہوا ہے۔ سندھ جیسے تاریخی اور روایتی صوبے کو جب بھی تقسیم کرنے کی بات کی جائے گی، تو وہاں کے عوام میں خدشات اور انضباطی بے چینی کا پیدا ہونا فطری امر ہے۔ قومیں صرف رقبے یا مردم شماری کے اعداد و شمار پر نہیں بنتی بلکہ ان کے پسِ پشت صدیاں پرانی تہذیب، زبان اور ثقافت ہوتی ہے۔ ثقافتی حساسیت کو مدِ نظر رکھے بغیر اگر محض بستی یا شمالی و جنوبی حصوں کے نام پر نقشے پر قینچی چلائی گئی تو اس سے ملک میں ایک نیا لسانی تعصب جنم لے سکتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ملک کو نئے صوبوں سے زیادہ ایک شفاف، دیانتدار اور خودمختار مقامی حکومتوں کے نظام کی ضرورت ہے۔ طاقت کی حقیقی منتقلی اس وقت تک ممکن ہی نہیں جب تک اختیارات صوبائی دارالحکومتوں سے نکل کر اضلاع اور تحصیلوں کی سطح پر عام عوام کے منتخب نمائندوں تک نہ پہنچیں۔ اگر موجودہ انتخابی اور انتظامی ڈھانچے کو جوں کا توں برقرار رکھتے ہوئے صرف نئے نقشے تراشے گئے، تو اس سے ملک کا مستقبّل روشن ہونے کے بجائے مزید تاریک ہو جائے گا۔ نظام کی تشکیلِ نو کاغذ کی حد بندیوں سے نہیں بلکہ عدل، شفافیت اور بلاحسن و قبح احتساب سے شروع ہوتی ہے۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here