حضور مجاہد کی ولادت، حصول علم دین اور اس کا پس منظر

0
22

امام تارکین سراج السالکین فاتح عرب و عجم حضور مجاہد ملت علامہ شاہ محمد حبیب الرحمن قادری عباسی ہاشمی رضی اللہ عنہ کی ولادت با سعادت 8 محرم الحرام 1322ھ بمطابق 2 مارچ سنیچر سرزمین دھام نگر ضلع بھدرک اڑیسہ میں ہوئی۔ آپ حضرت شاہ کمال بلخی رضی اللہ عنہ کی اولاد و امجاد میں سے ہیں۔ آپ کا سلسلہ نسب چند واسطوں سے حضرت عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ تک پہنچتا ہے۔ اگرچہ آپ کا تعلق عباسی سادات سے ہے لیکن حضور مجاہد ملت نے اپنی حیات ظاہری میں کبھی بھی اس نسبت کا اظہار نہ فرمایا۔ یہ آپ کی غایت تواضع اور انتہائی انکساری کی دلیل ہے۔ ایک بار کسی نے آپ سے پوچھا کہ حضور! آپ جب عباسی سید ہیں تو اس کا اظہار کیوں نہیں فرماتے؟ تو آپ نے جواب دیا کہ مجھے اس بات کا اندیشہ رہتا ہے کہ کوئی اسے نسبی غرور سے نہ تعبیر کرے، لہذا پردے ہی میں بھلائی ہے۔
حضور مجاہد ملت کی ولادت ایک ایسے زمیندار گھرانے میں ہوئی جو صوبہ اڑیسہ کا سب سے بڑا زمیندار گھرانہ مانا جاتا تھا۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس گھرانے کی سالانہ آمدنی اس زمانے کے اعتبار سے اٹھانوے ہزار روپے تھی اور یہ روڈفیو اسٹیٹ کے نام سے پورے صوبے میں متعارف تھا۔ اسٹیٹ کے تحت اڑیسہ کے بیشتر علاقے تھے۔ اس اسٹیٹ کی وسعت کا یہ عالم تھا کہ وہ ہر سال برٹش گورنمنٹ کو انچاس ہزار بطور خراج ادا کرتا تھا۔ اس مناسبت سے حضور مجاہد ملت کو رئیس اعظم اڑیسہ کہا جاتا ہے۔
ایسے مالدار اور زمیندار گھرانے میں پرورش پانے کے باوجود آپ انتہائی سادگی پسند، منکسر المزاج، غریب پرور، حمیت سے سرشار، حق و انصاف کے علمبردار اور اخلاص و وفا کے خوگر رہے۔ تواضع کا یہ عالم تھا کہ دنیا نے آپ کو ہمیشہ سادہ لنگی، سادہ کرتا اور دوپلی ٹوپی میں دیکھا۔ آپ کی مقدس حیات کا کوئی ایسا لمحہ نہیں ملتا جو سادگی کے ساتھ ساتھ شریعت کے سانچے میں ڈھلا ہوا نہ ہو۔ آپ نے تا دم حیات نہ کسی پر اپنی رئیسی کا رعب جمایا اور نہ کسی کے ساتھ بدخلقی کا مظاہرہ فرمایا۔ بلاشبہ یہ خوبیاں آپ کی بے مثال خدا ترسی اور تقویٰ و پرہیزگاری کی روشن دلیل ہیں۔
یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ رب قدیر نے یہ سارے اوصاف آپ کی فطرت میں اس طرح ودیعت فرما دیے تھے کہ ایام طفولیت ہی سے آپ کے ذہن و فکر کی طہارت شریعت سے بے لوث محبت، قول و فعل میں یکسانیت، کردار و عمل کی نظافت، لہو و لعب سے حقارت، حق و صداقت سے الفت، بزرگان دین سے عقیدت اور دشمنان دین سے نفرت اس بات کا اعلان کر رہی تھی کہ یہ کوئی معمولی بچہ نہیں بلکہ یہ اپنے دور کا ولی کامل، قرآن و سنت کا پاسدار، حق و صداقت کا علمبردار اور باطل قوتوں کے سروں پر لٹکتی تلوار بن کر دنیا میں چھا جائے گا۔

 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here